خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 505
خطبات طاہر جلد ۱۰ 505 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۹۱ء سلیمان کو آزمائش میں ڈالا ، فتنے میں ڈالا ۔ وَالْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا اور اس کے تخت پر ایک لاشے کو لا بٹھایا ۔ ثُمَّ اَنَاب اس کے نتیجہ میں وہ بار بار خدا کے حضور جھکا اور مغفرت مانگی اور توبہ کی۔ بہت ہی افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے غیر احمدی مفسرین اس کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان سے گناہ سرزد ہوا اور آپ نے اپنے بستر پر ایک عورت ڈال دی ۔ نعوذ بالله من ذالك بہت ہی جاہلانہ تفسیریں ہیں ۔ یہ تفسیریں دیکھ کر تو بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ کس طرح ہمیں اندھیروں سے روشنی میں نکالا ہے اور اگر یہ بات تھی تو اچانک اس کے بعد اپنی قوم پر بددعا کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اگر نعوذ بالله من ذالك کوئی گناہ ہی سرزد ہوا تھا تو اس گناہ کا بدلہ اپنی قوم کو ، اپنے بچوں کو دینا تھا کہ یہ دعا کرتے کہ اچھا چونکہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے اس لئے میری اولاد اور میری نسلوں کو اس کی سزائیں دے اور سارے بنی اسرائیل کو اس کی سزادے اور میرے بعد یہ ملک تباہ کر دے۔ ہرگز یہ بات نہیں ہے۔ آپ کو جب خدا ، والی ہے تو نے خبر دے دی کہ تیری اولاد اس لائق نہیں ہے کہ وہ تیری تخت نشین ہو۔ نالائق اولاد آنے والی ۔ اس وقت آپ نے یہ کہا کہ اے خدا میں تو نبی ہوں اور نبوت کے ساتھ ملوکیت کرتا رہا ہوں اور پورے انصاف اور تقویٰ کے ساتھ حکومت کے حقوق ادا کرتا رہا ہوں ۔ اگر ایک نالائق کے سپرد یہ ساری قو میں کر دی گئیں تو وہ تو بہت ظلم کرے گا ۔ ہرگز وہ اس لائق نہیں ہے کہ ایسی شاندار حکومت اس کے سپرد کی جائے ۔ پس اس عاجزانہ دعا کے نتیجہ میں جو تقویٰ پر مبنی تھی خدا تعالیٰ نے آپ کے بعد پھر اس حکومت کو اس طرح جاری نہیں رہنے دیا۔ یہ آخری حکومت ہے جس میں نبوت اور دنیاوی حکومت اکٹھے تھے۔ تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ پس ہرگز نعوذ بالله من ذالك نہ نبیوں کو بددعائیں دینے کی عادت ہوتی ہے نہ وہ ایسی جاہلانہ خودکشی کرنے والی بد دعائیں کرتے ہیں ۔ یہ دعا تقویٰ پر مبنی ہے۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ جس کے ہاتھ میں قوم کی لگام ہو گی اگر خدا کے نزدیک وہ بد ہے تو خدا پھر اس کے سپرد یہ حکومت نہ کرے اس سے بنی نوع انسان کو دکھ پہنچے گا۔ اب چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اور ترجمہ بھی ہونا ہے انشاء اللہ تعالیٰ باقی دعاؤں کے مضمون کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آئندہ خطبہ میں میں جہاں سے چھوڑا ہے وہاں سے شروع کرونگا۔