خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد ۱۰ 46 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۱ء کوئی بھی انسانیت اور اسلام کا سچا ہمدردان اقدامات پر خوش نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر صدر صدام کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں اہل عراق کو دردناک سزائیں دی گئیں تو اس پر خوش ہونا مسلمان تو کیا ایک معمولی ادنی انسان کو بھی زیب نہیں دیتا لیکن ساتھ ہی جب آپ ٹیلی ویژن پر وہ تصویریں دیکھتے ہیں جن میں بے کار بیٹھے ہوئے امیر ، بھری ہوئی تجوریوں کے مالک کو بیتی اور سعودی کانوں کے ساتھ ریڈیو لگائے بیٹھے ہوئے عراق کی تباہی کی خبروں پر قہقہے لگاتے ہیں اور ایسے مزے اڑا رہے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے دیکھ کر۔ جب ان تصویروں کو آپ دیکھتے ہیں تو انسان بیان نہیں کر سکتا کہ دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ ایسے انسان بھی ہیں جو اسلام کے نام پر ساری دنیا میں اپنے تقویٰ کے ڈھنڈورے پیٹتے رہے ہیں اور یہ بتاتے رہے ہیں کہ ہم اسلام کے صف اول کے سپاہی ہیں ہم وہ ہیں داری جن کے سپردخانہ کعبہ کی چابیاں کی گئی ہیں ۔ جن کے سپرد مقامات مقدسہ کی حفاظت کی عظیم ذمہ د سونپی گئی ہے۔ ہم وہ ہیں جنہیں عالم اسلام میں خدا تعالیٰ نے عظیم سیاد تیں بخشی ہیں، یہ دعوے کرتے چلے جارہے ہیں اور انسانی قدروں کی حالت یہ ہے کہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے Next Door یعنی ساتھ کے ہمسایہ مسلمان ملک پر اس قدر خوفناک مظالم توڑے جا رہے ہیں کہ ان کے حالات جب جنگ کے بعد سامنے آئیں گے تو مدتوں تاریخ ان کے ذکر پر روئے گی ۔ ہلاکو خان کی باتیں تو قصہ ہوچکی ہیں وہ پرانی باتیں ہیں ۔ ہلاکو خان کو تو جنگ عظیم کی ہلاکت نے خواب بنایا تھا اور اب یہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ جنگ عظیم میں جو کچھ ہوا وہ کچھ بھی نہیں تھا، ویتنام میں جو بمباری ہوئی ہے اس کی باتیں چھوڑ دو ۔ اب جو بمباری ہم کر رہے ہیں اس کی کوئی مثال بنی نوع انسان کی فوجی طاقت کے مظاہرے میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ ان باتوں کو دیکھ کر قہقہے لگانے اور ہنسنا اور جہالت کے ساتھ ایسی طرز اختیار کرنا کہ جوکسی شریف انسان کو زیب نہیں دیتی ۔ ایسی گھٹیا حرکتیں ، ایسے گھٹیا انداز میں نے تو پہلی دفعہ دیکھا ہے میں تو حیران رہ گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اتنی دولتوں کا مالک بنایا گیا ہے اور یہ ان کا وقار ہے اور یہ ان کی عقل اور سمجھ بوجھ ہے۔ کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ استغفار کریں، کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ توبہ کریں۔ خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوں خدا تعالیٰ کی چوکھٹ پر سجدے کریں اور اس سے دعا مانگیں کہ اے خدا ہم کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں، مجبور ہو گئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو نیست و نابود کر دیں اور اس کے نتیجے میں صدقات کریں۔ بنی نوع انسان کی ہمدردی کا اظہار کریں ، اس دولت کا صحیح استعمال کریں جس دولت کا