خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 414
خطبات طاہر جلد ۱۰ تسبیح و تحمید میں وقت گزارا کرتا تھا۔ 414 خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۹۱ء اس میں ہمارے لئے یہ نصیحت ہے کہ ہم عین وقت کے اوپر جو دعا کریں کہ اے خدا ہم - سے غلطی ہوگئی ہمیں ظلم سے نجات بخش ہمیں ظلمات سے نکال دے اور اس سے پہلے خدا کی تسبیح و تحمید نہ کریں تو ہماری دعا میں قبولیت کی وہ طاقت نہیں ہوگی اس لئے ہمیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کی حالت میں رہنا چاہئے ۔ اس وقت خدا کی تسبیح کرنی چاہئے جبکہ خدا سے کوئی مطالبہ نہیں ہورہا۔ کوئی بھیک مانگنے کے لئے اس کے در پر نہیں گئے بلکہ اس کی محبت میں ، اس کی یاد میں ، اس کے پیار میں ہم اس کی مدح کے گیت گا رہے ہوں اس کی تسبیح بلند کر رہے ہوں ۔ ایسی حالت میں ہمیں جب بھی مشکل پیش آئے گی تب خدا تعالیٰ اس پرانی تسبیح کو یاد کرتے ہوئے اگر چہ گناہ بڑا بھی ہو گیا ہو تب بھی مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔ پس وہ لوگ جو بعض دفعہ مجھے یہ لکھتے ہیں کہ ہم مصیبت میں گھر گئے ، ہم نے تو بڑی التجائیں کیں ، بڑا شور مچایا بہت روئے پیٹے ، ہماری دعا قبول نہیں ہوئی ان کے لئے اس میں نصیحت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی زندگی میں وہ خدا سے غافل رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کیں لیکن انہیں خدا کو یاد رکھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ اسی وقت یاد آیا جبکہ ضرورت پیش آئی تو جب ضرورت پیش آئی اس وقت کی یاد کی کوئی حقیقت نہیں ہوا کرتی ، کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی ۔ پس ضمناً یاد کرادوں وہ تین دن والی جو بحث ہے اس کو اس طرح نہیں کرنا چاہئے کہ آپ اصرار کریں کہ ضرورتین دن ہی مچھلی کے پیٹ میں رہے تھے۔ تین دن کی خطرناک حالت ہم کہہ سکتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بائیبل میں جو واقعہ ہے وہ لکھنے والوں کو پوری طرح واضح نہیں تھا۔ خدا تعالیٰ نے ممکن ہے کسی نیک بندے پر وحی کی ہو یا ایک باہرکے نبی کا قصہ وہاں پہنچا ہو اور اس میں غلطی رہ گئی ہو۔ تین دن کی انتہائی نازک حالت کا ذکر ہوگا جس کو یہ سمجھ لیا گیا کہ گویا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے دل کا حملہ ہوتا ہے تو تین دن تک بعض دفعہ ایک شخص Intensive care میں رکھا جاتا ہے یعنی ایسی حالت میں جہاں زندگی اور موت کے درمیان کشمکش جاری ہوتی ہے پس وہ حالت جس میں بظاہر موت غالب آنے والی ہوا سے ہم خطر ناک حالت قرار دیتے ہیں، بیماری تو بعد میں بھی کچھ چلتی ہے لیکن اس بعد کی حالت میں صحت کے غلبے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ پس