خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 384
خطبات طاہر جلد ۱۰ 384 خطبه جمعه ۳ رمنی ۱۹۹۱ء کے ساتھ اور اولاد کا والدین کے ساتھ گہرا اٹوٹ تعلق قائم ہو چکا ہو ۔ اسی کے نتیجہ میں خاندان استوار ہوتے ہیں ، اسی کے نتیجہ میں سوسائٹی میں یکجہتی پیدا ہوتی ہے جہاں خاندانی رشتے ٹوٹ جائیں جہاں والدین اپنی اولاد سے الگ ہونے شروع ہو جائیں وہاں سوسائٹی پارہ پارہ ہو کر بکھر جاتی ہے اور ایک بکھری ہوئی منتشر سوسائٹی توحید پر پر قائم نہیں ہوا کرتی ۔ پس وحدت کے ساتھ اس مضمون کا ایک اور بھی گہرا تعلق ہے یعنی ایک تعلق تو یہ ہے کہ خدا کو اپنی توحید کے بعد سب سے زیادہ یہ چیز پیاری ہے کہ مومن احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینے والا ہو اور دوسرا تعلق یہ ہے کہ جو میں نے بیان کیا ہے۔ اب ایک اور دعا میں آپ کو بتاتا ہوں قرآن کریم میں سورۃ الکہف آیت ۱۱ میں یہ دعا بیان ہوتی ہے رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِ نَارَ شَدَّا اے ہمارے رب ہمیں اپنی جناب سے اپنے حضور سے رحمت عطا فر ما و هَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا اور ہمارے لئے اپنی جناب سے ہدایت اور رشد کے سامان پیدا فرمادے ہمیں ہدایت اور رشد عطا فرما۔ اس دعا کا بھی ایک پس منظر ہے یہ دعا ان اصحاب کہف کی دعا ہے جن کے متعلق قرآن کے رآن کریم فرماتا ہے کہ ان پر جب دنیا تنگ ہو گئی جب سطح زمین پر بسنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تو بجائے اس کے کہ وہ توحید سے تعلق توڑتے انہوں نے یہ زیادہ پسند کیا کہ سطح زمین پر بسنے کی بجائے غاروں میں اتر جائیں اور بنی نوع انسان سے چھپ کر اپنی زندگی بسر کریں تا کہ توحید پر قائم رہ سکیں۔ پس اس دعا کا بھی توحید کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِ نَارَ شَدًا اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب نوجوانوں کی ایک جماعت فرماتا ہے الْفِتْيَةُ سے مراد نوجوانوں کی جماعت ہے، غار میں داخل ہونے لگے ، غاروں کی طرف مائل ہو گئے اور یہ غاروں کی زندگی بسر کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ اے خدا ! دنیا سے تو ہمیں اب رحمت کی کوئی امید نہیں رہی رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً مِیں مِن لَّدُنْكَ پر بہت زور ہے۔ مِنْ لَدُنْكَ کا مطلب ہے کہ اب اپنی جناب سے تو نے جو کچھ دینا ہے عطا کرنا ہے اگر دنیا میں کوئی رحمت کا دودھ کیا ضرورت تھی کہ انسانوں کی طرح سطح زمین پر بسنے کی بجائے ہم جانوروں کی طرح غاروں میں اتر جاتے۔ یہ عیسائیت کی پہلی صدی اور پھر دوسری اور تیسری صدی کے ان موحدین کا ذکر ہے