خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد ۱۰ 357 خطبہ جمعہ ۲۶ اپریل ۱۹۹۱ء ہیں کہ ایک وقت ضرور ایسا آئے گا کہ یہ مدفون خزانے پھرا بھر آئیں گے اور زمین ان خزانوں کو یعنی خدا تعالیٰ کے نشانات کے خزانے باہر پھینک دے گی۔ اب میں آپ کو حضرت نوح کی دعا بتاتا ہوں ۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللهِ مَجْرَتَهَا وَ مُرْسَهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (عود (۴۲) نوح کی جو یہ دعا ہے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائی ہوئی دعا ہے فرمایا: وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا اس کشتی میں سوار ہو جاؤ بِسْمِ اللهِ مَجْرَتهَا وَ مُرْسُهَا اور یہ پڑھتے چلے جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ، اس کی ذات بابرکات کے ساتھ ہم اس سفر کا آغاز کرتے ہیں ، مَجْرَتَهَا وَ مُرْسَهَا اس کشتی کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی اسی کے نام سے ہے۔ اِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ یقیناً میرا رب بہت ہی بخشنے والا اور بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔ پس یہ الہامی دعا ہے اور جتنے بھی سمندر کے یا دریاؤں وغیرہ کے سفر اختیار کئے جاتے ہیں ان میں عام طور پر وہ مسلمان جو اس دعا سے واقف ہیں یہی دعا کرتے ہیں اور ہمیں بھی سب احمد یوں کو یہ دعا کرنی چاہئے ۔ قادیان میں تو سب کو اس دعا سے بہت ہی واقفیت تھی اور بچے بچے کو سکھائی جاتی تھی لیکن اب جو موجودہ نسلیں ہیں اس سے کچھ غافل ہوتی جا رہی ہیں ۔ اس لئے میں یہ دعا ئیں دوبارہ پڑھ کر ان کا پس منظر آپ کو بتا رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو ، اپنے ماحول میں سب عزیزوں کو یاد بھی کرائیں اور ان کا مضمون سمجھائیں ان دعاؤں سے ایک ذاتی تعلق پیدا کر دیں تا کہ جب بچے یہ دعائیں مانگیں یا آئندہ جو بڑے بھی ہوں گے وہ مانگیں تو ان کے دل کی گہرائیوں سے یہ دعائیں اٹھیں اور اس مضمون کو سمجھ کر وہ یہ دعائیں کرنے والے ہوں۔ کوسمجھ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی میں سوار ہونے کے بعد اللہ کے نام پر جو سفر اختیار کیا اس سفر میں ان کا ایک بیٹا ساتھ نہیں تھا اور جب وہ طوفان بہت بڑھا تو آپ نے دیکھا کہ وہ بیٹا ایک پہاڑی کے دامن میں کھڑا ہے۔ آپ نے اس کو آواز دی اور کہا کہ تم آجاؤ ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں تو اس پہاڑ میں پناہ لے لوں گا مجھے تمہاری کشتی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد اگلا منظر خدا تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ ہمیشہ کے لئے نظر سے غائب ہو گیا ۔ اس پر حضرت نوح نے بڑی