خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد ۱۰ 349 خطبہ جمعہ ۲۶ اپریل ۱۹۹۱ء حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت ابراھیم اور حضرت یوسف علیہم السلام کی دعاؤں کی عظمت اور ان کی قبولیت کے راز ( خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ اپریل ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ گزشتہ دو جمعوں سے یہ مضمون چل رہا ہے کہ خدا کی راہوں پر قدم مارنے والے اللہ تعالیٰ کی راہ کے مسافر رستے کی صعوبتوں اور مشکلات کو کیسے برداشت کرتے ہیں اور کس طرح ان تکالیف پر غالب آتے ہیں جو خدا کی راہ میں چلنے والوں کو پہنچتی ہیں ۔ قرآن کریم اس کا جواب ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ یہ معجزہ دعا کے ذریعہ ظہور پذیر ہوتا ہے ورنہ انسان کے اپنے بس میں نہیں کہ خدا کی راہ پر چلتے ہوئے اس کی تکالیف کو صبر اور رضا کے ساتھ کلیہ برداشت کر سکے اور پھر بجائے مشکلات سے مغلوب ہونے کے غالب بن کر ابھرے پس یہ دو اکٹھی باتیں ہیں جو دعاؤں کا پھل ہیں۔ صرف انبیاء ہی کی نہیں بلکہ دیگر انعام یافتہ لوگوں کی دعاؤں میں سے ان دعاؤں کو قرآن کریم میں محفوظ فرمادیا جو اللہ تعالیٰ کو پسند آئیں اور جن کو امت محمدیہ کے لئے بطور نمونہ محفوظ رکھا گیا ۔ ایسی ایسی پرانی قدیم دعائیں ہیں اور ایسے ایسے وقت میں ہوئی ہیں جبکہ کوئی ان کا گواہ موجود نہیں تھا۔ ایک ابراہیم علیہ السلام تھے اور ایک ان کا بیٹا اور ایسی بھی دعا ئیں تھیں جبکہ بیٹا بھی نہیں تھا۔ اکیلے ابراہیم جنگل بیابان میں دعائیں کر رہے ہیں ۔ وہ دعا ئیں بظاہر ہمیشہ کے لئے فضاؤں میں کھوئی گئیں اور ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔ کتنی مدت کے بعد ؟ ہزاروں سال بعد حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے دل پر وہ دعائیں صلى الله