خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد ۱۰ 347 خطبہ جمعہ ۱۹ / اپریل ۱۹۹۱ء لئے حسنات لکھ لے۔ اچھی چیزیں لکھ لے۔ حَسَنةً اس دنیا میں بھی ہمارا مقدر بنا دے۔ و فِي الْآخِرَةِ اور آخرت میں بھی ۔ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ کیسی پیاری دعا ہے۔ کہتے ہیں ہم تو اب تیری طرف آہی گئے ہیں، لمبا سفر کر کے تیرے حضور حاضر ہو گئے ہیں اب تو واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہا ، اب تو خیر لے کر ہی واپس لوٹیں گے۔ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ ہم تیرے پاس آگئے اب ہم سے یہ سلوک نہ کرنا کہ دشمنوں میں ہماری ہزیمت ہو اور جگ ہنسائی بنے۔ پس انبیاء کی دعاؤں پر غور کریں اور دیکھیں یہ انعام یافتہ لوگ تھے ۔ کیسے موقعہ اور محل کے مطابق کتنی حکمت کے ساتھ اور درد کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ انہوں نے ایسی دعائیں مانگیں جو معلوم ہوتا ہے کہ مانگتے وقت ہی خدا کے حضور مقبول لکھی گئی تھیں اور ان کے رد کرنے کا سوال ہی نہیں تھا کیونکہ دعا ئیں اپنی سچائی اور اپنے خلوص کے ساتھ خود اپنی مقبولیت کی گواہ بن کر دلوں سے اٹھ رہی تھیں ۔ چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے اس ایک دعا کے بعد جواب میں آپ کو بتاؤں گا پھر یہ سلسلہ انشاء اللہ اگلے جمعہ میں جاری رہے گا۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا آخرت میں بھی دعاؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد کی جو زندگی ہے اس میں اور بھی مزید ترقیات عطا ہوتی ہیں اور روحانی دنیا میں کوئی ترقی دعا کی مدد کے بغیر عطا نہیں ہو سکتی اس مضمون کو خوب ذہن نشین کر لیں ۔ پس اگر مرنے کے بعد بھی ترقیات کا سلسلہ جاری ہے تو دعاؤں کا سلسلہ لازم ہے ۔ چنانچہ فرمایا۔ دعوتهُمْ فِيهَا جنت میں ان جنتوں کی کیا دعا ہو گی - سبحن اللهم اے اللہ ! تو ہر برائی پاک ہے ۔ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلم اور وہ ایک دوسرے کو سلام بھیجیں گے۔ سلام دعا ہے۔ ا ہے۔ ایک دوسرے کے لئے خدا ہے سلامتی مانگیں گے۔ وَاخِرُ دَعُونَهُمْ آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (یونس : (1) اور آخری دعوی ان کا یہ ہوگا ۔ آخری دعا ان کی یہ ہوگی کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے سے یہاں رب کے اوپر دعا کی جو تان ٹوٹی ہے اور قرآن کریم کی پہلی آیت الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پر جو دعا کی تان ٹوٹی ہے تو اس میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہو گیا جس سے ہم نے سورہ فاتحہ کا آغاز کیا تھا۔ وہ مضمون یہ ہے کہ خدا تعالیٰ رب ہے یعنی کسی چیز کو ایک حالت میں نہیں رہنے دیتا۔ جس چیز کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اسے ترقی دیتا رہتا ہے۔اسے آگے بڑھاتا رہتا ہے۔اس