خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 342

خطبات طاہر جلد ۱۰ 342 خطبہ جمعہ ۱۹ / اپریل ۱۹۹۱ء مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ چنانچہ سورہ اعراف میں یہ دلچسپ دعا موجود ہے جو مرنے کے بعد اعراف پر موجود جنتی خدا سے مانگیں گے اور اس وقت وہ یہ دعا کریں گے۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (اعراف : (۴۸) کہ اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں میں نہ شمار کرنا اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ تو ظالموں کی دنیا سے نکل کر اپنے خدا کے حضور حاضر بھی ہو گئے ۔ اور اس مقام پر فائز کئے گئے جسے قرآن کریم اعراف کا مقام بتاتا ہے۔ یعنی خدا کے منتخب چند بندے جس طرح کوئی پہاڑ کی بلند چوٹی پر کھڑا ہو اس طرح ان کو رفعتیں عطا کی جائیں گی اور وہ دور سے دکھائی دیں گے۔ نمایاں طور پر معلوم ہوگا کہ یہ خدا کے پیارے بہ رے بندے ہیں ۔ اس مقام پر فائز ہونے کے باوجود یہ حال ہوگا کہ عرض کریں گے ۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کی قوم میں داخل نہ کرنا۔ دراصل ابھی اعراف پر فائز لوگوں کے ساتھ حساب کتاب ہونا باقی ہے۔ یہ اس دور کی بات ہو رہی ہے جبکہ حشر نشر ہو چکا ہے لیکن ابھی آخری فیصلے کا وقت آنے والا ہے مگر نیکوں کی علامتیں بھی ظاہر ہو گئی ہیں۔ بدوں اور جہنم والوں کی علامتیں بھی ظاہر ہو رہی ہیں وہ دوگروہوں میں بانٹے جارہے ہیں تو انکسار کا تقاضا یہ ہے اور عجز کا تقاضا یہ ہے کہ اس حالت میں بھی جبکہ سامنے جنت دکھائی دے رہی ہو خدا سے یہ عرض کریں کہ جہاں تک ہماری ذات کا تعلق ہے اگر تو ہمارے ظالم ہونے کا فیصلہ کرلے تو تیرا فیصلہ برحق ہوگا ۔ ہم اپنے گناہوں اور کمزوریوں سے واقف ہیں۔ اعراف پر فائز ہونے کی وجہ سے ہمیں کوئی دھوکا نہیں لگا۔ ہم یہ نہیں سمجھ رہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ اس لئے جب ہم کہتے ہیں کہ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ تو مراد یہ ہے کہ تیرے حضور ہم ظالموں میں شمار نہ ہوں ۔ ہماری تو یہ التجا ہے کہ ظالموں کے باوجود تو ہمیں نیک لوگوں میں لکھنا اور اگر ہم بخشے جائیں تو ہم اس دھوکے میں مبتلا نہیں ہوں گے کہ اپنی نیکیوں کی وجہ سے بخشے گئے بلکہ یہ سمجھیں گے کہ ظالم ہوتے ہوئے بھی تو نے ہمیں ظالموں میں شمار نہیں فرمایا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی دعا جبکہ قوم کے متکبروں نے آپ کو دھمکی دی اور وہ دھمکی پیتھی کہ تم واپس سواد اعظم میں لوٹ آؤ ۔ اکثریت قوم کی تمہیں واپس بلا رہی ہے۔ تم نے اقلیت کی ایک عجب سی نئی راہ اختیار کر لی ہے اور بہت معمولی تعداد میں ہو۔ تمہاری حیثیت کوئی نہیں ۔ جب چاہیں ہم تمہیں مٹا سکتے ہیں اس لئے اب دو ہی باتیں ہیں ۔ جھگڑے ختم کرو اور بحثیں ختم کرو، یا تو تم ہمارے