خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 331
خطبات طاہر جلد ۱۰ 331 خطبہ جمعہ ۱۹ اپریل ۱۹۹۱ء اس کا کوئی مقصد ہے اور اگر ہم اس مقصد کو پورا کرنے والے نہ بنیں تو جس طرح بے کار چیزیں آگ میں پھینک دی جاتی ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہم بھی آگ کا ایندھن نہ بن جائیں تو ان سب باتوں پر مشتمل یہ دعا ہے اگر چہ الفاظ تھوڑے ہیں۔ عرض کرتے ہیں رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تیری شان بلند ہے، تو سبحان ہے ، تو پاک ہے ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ پس سوال یہ ہے کہ اچانک زمین و آس بانک زمین و آسمان پر غور کرنے کے بعد آگ کے عذاب کا کیا ذکر چل پڑا۔ وہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ وہ ذکر اس مضمون میں مخفی ہے، اس کے اندر یہ ذکر موجود ہے اگرچہ ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا۔ مراد یہی ہے کہ جب وہ یہ مضمون پا جاتے ہیں کہ اتنی عظیم الشان کائنات جو اتنی لطافتوں اور حکمتوں کے ساتھ بنائی گئی ہے اور ارب ہا ارب سال جس کی تخلیق کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں لگے یہ بے معنی اور بے کار نہیں ہو سکتی ۔ ایک انسان ایک گلی ڈنڈا بھی بنائے تو اس کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ بچے کوئی معمولی سا کھلونا بھی گھڑ لیں یا مٹی سے بنا لیں تو اس کا بھی ایک مقصد ہوا کرتا ہے۔ جب وہ مقصد پورا نہ ہو تو پھر اسے یا تو ردی میں پھینک دیا جاتا ہے یا آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔ ہر پرزہ جس مقصد کے لئے بنایا جاتا ہے اس مقصد کو جب وہ پورا کرنا چھوڑ دے تو Junk میں چلا جاتا ہے۔ پرانی کاریں آپ نے دیکھی ہوں گی کہ وہ ایسی جگہوں پر بھجوادی جاتی ہیں جہاں بڑی بڑی مشینیں ان کو چڑ مڑ کر کے محض لوہے کا ڈھیر بنا دینے پر لگی رہتی ہیں اور آنا فانا ان کاروں کے حلیے بگڑ جاتے ہیں اور وہ محض لوہے کے ٹکڑے باقی رہ جاتے ہیں ۔ مقصد کیا ہے؟ مقصد یہ ہے کہ ہر وہ چیز باقی رہے جو مفید ہے جو ان مقاصد کے مطابق ہے جن مقاصد کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور ہر وہ چیز رد کر دی جائے اور اسے کالعدم کر دیا جائے جو مقاصد کو ادا کرنے سے عاری ہوگئی ہو کیونکہ اس کے رہنے کا اب کوئی جواز نہیں رہا۔ ان کے لئے آگ بنائی گئی ہے۔ آگ ان لوگوں کو ختم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے جو مقصد کو پورا نہیں کر سکے۔ اس لئے یہ بڑی پر حکمت دعا ہے دیکھئے ان لوگوں کو لِأُولِي الْأَلْبَابِ کہنا یہاں کیسا سجتا ہے کہ غور وفکر کے بعد لمبی باتوں کی بجائے سیدھی نکتے کی بات کہی ۔ آخری مقصد کی بات بیان کر گئے کہ اے خدا! ہم نے بہت غور کر لیا ہے۔ اب ہمیں یہ یقین ہو گیا ہے کہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کیا تو ہم آگ کا ایندھن بنائے جانے کے لائق ہوں گے ۔ پس ہم تجھ سے یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ