خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد ۱۰ 288 خطبہ جمعہ ۵ اپریل ۱۹۹۱ء باتیں ان پر بناتے تھے اور ان کو حقارت سے دیکھتے تھے۔ ایک دوسرے کو آنکھیں مارتے تھے اور ہنستے ئے کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہیں جس نے دیکھتے ہیں دیکھ لے۔ یہ بد بخت لوگ ہیں جن کے پاس کوئی کو ہدایت نہیں ۔ ایسے ایسے مظالم کا ان کو نشانہ بنایا گیا اور جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس ہوئے۔ مطالعہ میں ساتھ ہی خدا یہ بتاتا ہے کہ میرے یہ پیارے بندے ہیں ۔ میرے یہ انعام یافتہ لوگ ہیں۔ پس جب ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ! ہمیں انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلا تو یہ سب دعا ئیں اس میں شامل ہیں۔ یہ سب مرادیں ہیں جو ہم مانگ رہے ہیں اسی طرح اس راستے پر چلنے کے نتیجے میں ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں۔ ہم خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ اَرِنَا مَنَاسِكَنا (البقرہ: ۱۲۹) ہمیں ہماری قربان گاہیں دکھا وہ جگہیں دکھا جہاں ہم تیرے حضور اپنی قربانیاں پیش کریں گے ۔ ہم خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا! ہم سے ہمارے سارے اموال لے لے اور ہماری جانیں لے لے اور ہم سے یہ سودا کر لے کہ ہمارا کچھ بھی نہیں رہا۔ سب تیرا ہو گیا ہے اور اس کے بدلے ہمیں ایک آئندہ آنے والی جنت کی خوشخبری دے دے ۔ یہ وعدہ کرلے کہ جب ہم اس دنیا کو چھوڑ دیں گے تو تیری دائمی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ پس جو ہاتھ میں ہے اسے چھوڑ نے کی دعا مانگ رہے ہیں اور جو ہاتھ میں نہیں اور عام دنیا کی نگاہ میں ایک موہوم وعدہ ہے اسے حاصل کرنے کی دعا مانگ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو پھر لوگ بے وقوف کہتے ہیں، کہتے ہیں پاگل ہیں ۔ ان کو پتا ہی نہیں کہ یہی دنیا ہے جو آج کی زندگی ہے بس یہی سب کچھ ہے آنکھیں بند تو سب کچھ ختم اور وہ ہنستے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ پاگل لوگ خدا کے بندے بنتے ہیں، ہوش والے بنتے ہیں یہ تو بے وقوف ہیں۔ السُّفَهَاء ہیں لیکن خدا کے ان بندوں کے کانوں میں خدا کی یہ آواز پڑتی ہے ۔ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِن لَّا يَعْلَمُونَ (البقره: ۱۴) خبردار ! ان کے طعنوں سے تم مضحل نہ ہو جانا ۔ ان کے طعنوں سے تم کہیں امیدیں نہ چھوڑ بیٹھنا ۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ خبردار ! یہی وہ لوگ ہیں جو بے وقوف ہیں تم بے وقوف نہیں ہو۔ تم عقل والے ہو تم نے صحیح سودے کئے ہیں تو یہ دعائیں ہیں جو ہم مانگتے ہیں اور پھر زنجیریں مانگتے ہیں ۔ قید کی دعا مانگتے ہیں ۔ یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہماری ساری عمر پابندیوں میں صرف ہو جائے ۔ یہ دعا مانگتے ہیں کہ اس قید خانے میں ہمیں ڈال جس کا ذکر تیرے سچے رسول محمد مصطفیٰ