خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد ۱۰ 270 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء صلى الله انبیاء سے تعلق میں نظر نہیں آتیں مگر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے گزشتہ انبیاء کی دعاؤں کی فہرست میں عظیم الشان اضافے فرمائے ہیں ۔ بعض دفعہ دوسروں کو نصیحت کی شکل میں اور بعض دفعہ خود دعائیں کرتے ہوئے ایسی دعائیں کیں جو قرآن کریم میں موجود نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیں اور آپ کے صحابہ نے انہیں ہمارے لئے محفوظ کر لیا اور اس طرح ہمارے لئے ایک عظیم خزانہ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اردو زبان میں ایسی دعائیں کی ہیں جو مختلف شکلوں اور مصیبتوں کے وقت دعا کرنے والے دل کو اتنا گداز کر دیتی ہیں کہ اس گداز دل کی کیفیت کے ساتھ انسان یہ یقین ہی نہیں کر سکتا کہ یہ دعا مقبول نہیں ہوگی ۔ دعا کی قبولیت کے لئے دل کی زمین کا نرم ہونا ضروری ہے اور اسی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے زمیندار بونے سے پہلے زمین کو ہل چلاتا اور اس پر گوڈی کرتا اور اس پر اور منتیں کرتا ،کبھی سوہاگے پھیرتا اور پھر ہل چلاتا۔ یہاں تک کہ اس کو ایسا نرم اور مزیدار بنا دیتا ہے کہ جانوروں کا دل چاہتا ہے کہ وہ زمین پر لیٹیں اور لوٹیں اور بچوں کا بھی دل چاہتا ہے کہ اس پر خوب دوڑیں اور کھیلیں خواہ ان کے جسم مٹی سے بھر جائیں مگر اس زمین پر دوڑنے کا ایک عجیب اور الگ لطف ہوتا ہے وہ زمین ہے جو بتارہی ہوتی ہے کہ یہاں بیچ ڈالو تو بیج اگے گا۔ میری چھاتی تمہارے بیجوں کے لئے نرم ہو چکی ہے اور وہاں وہ پیج ضرورا گتا ہے۔ پس دعا کا بیج بھی اپنے اگنے کے لئے دل کی ایسی ہی زمین چاہتا ہے جسے نرم اور گداز کر دیا گیا ہو جو ایسی کیفیت میں ہو کہ اگر کوئی دوسرا اس دل کو دیکھے تو اس پر پیار آئے اور اس دل پر لوٹنے کو دل چاہے ایسی کیفیت میں جو دعائیں دل سے اٹھتی ہیں وہ ضرور مقبول ہوتی ہیں اور بسا اوقات ایسے دل سے اٹھنے والی دعا اٹھتے وقت انسان کو یہ خبر دے جاتی ہے کہ میں عرش الہی پر پہنچنے سے پہلے نہیں رکوں گی اور لازماً بارگاہ الہی میں مقبول ہوں گی ۔ وہ ایک عجیب کیفیت ہے جو صاحب تجربہ کو معلوم ہوتی ہے جس کی کیفیت کو دوسرے تک جسے تجربہ نہ ہو بیان کے ذریعہ پہنچایا نہیں جا سکتا لیکن میں جانتا ہوں کہ اکثر احمدی کسی نہ کسی وقت ضروران تجارب سے گزرتے ہیں ۔ پس انبیاء کے الفاظ میں دعا کرنا دل کے اندر وہ نرمی اور گداز کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے کہ جس میں پھر دعا کا بیج بویا جاتا ہے اور ایک شجرہ طیبہ بن کر اگتا ہے۔ جس کی شاخیں آسمان تک پہنچتی ہیں اور ان شاخوں کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ ضرور پھل لگتا ہے اور ہر موسم میں پھل لگتا ہے۔ یہ دعا کا شجر ایسا ہے جو کلمہ طیبہ کی