خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد ۱۰ 268 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء سے آپ کو گہری نظر سے قرآن کریم کا مطالعہ کرنا ہوگا اور خدا کے پیاروں ، انعام یافتہ لوگوں کا جہاں جہاں ذکر ملتا ہے خواہ وہ نبی ہوں یا اس سے ادنی درجے کے انعام یافتہ لوگ ہوں ان کی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا ہو گا کہ کن کن آزمائشوں سے وہ گزرے اور کن کن ٹھوکروں سے بچے ۔ کون سے ایسے دوراہوں پر وہ کھڑے ہوئے جہاں ایک طرف أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا راستہ تھا اور دوسری طرف مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا راستہ تھا۔ ایک قدم کی لغزش ان کو یا اس راہ پر چلا سکتی تھی جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کی راہ ہے اور ایک ہی قدم کی لغزش ان کو اس راہ پر بھی ڈال سکتی تھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے غضب کی راہ اور ناراضگی کی راہ ہے وہاں انہوں نے کچھ فیصلے کئے اور ان فیصلوں کے نتیجے میں ان پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوئیں بعض دفعہ بڑی تلخی کی زندگیاں انہوں نے گزاریں ۔ پس ان مواقع پر ان راہوں پر جہاں خدا کی خاطر تلخی برداشت کرنی پڑی وہ تمام تلخیاں نعمتیں ہیں۔ اسی کو آزمائش کہا جاتا ہے اور اگر وہ نعوذ بالله من ذالك غلط راہ پر قدم اٹھاتے تو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں داخل ہوتے لیکن بظاہر وہ راہ آسان دکھائی دیتی اور نعمتوں والی راہ دکھائی دیتی لیکن اس راہ کی سب عمتیں قرآنی بیان کے مطابق خدا کے غضب کا مظہر ہیں اور ان کی ضلالت اور گمراہی کا مظہر ہیں تو اس مضمون پر غور کرنے سے نعمتوں اور فضلوں کا نیا مفہوم ذہن میں ابھرتا ہے اور انسان خدا کے ان بندوں پر جو آزمائش کے دور سے گزارے جاتے ہیں، رحم نہیں کرتا بلکہ ان پر رشک کرنے لگتا ہے۔ یہ عرفان کا وہ مقام ہے جس کے بغیر مومن صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔ اب پاکستان میں ہمارے مظلوم احمدی ہیں جن پر کئی قسم کے مظالم توڑے جا رہے ہیں ان کیلئے ہمدردی پیدا ہونا غلط نہیں یہ ایک طبعی اور فطری بات ہے لیکن ان کو اپنے سے ادنی سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ وہ بے چارے تو مارے گئے ۔ یہ جہالت ہے اور یہ عرفان کی کمی ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب کہ ہم سب خدا کے حضور پیش ہوں گے، اس وقت آج جو نسبتاً آسانی میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور خدا کی راہ میں آزمائشوں میں نہیں ڈالے گئے وہ ایک اور زاویے سے ان حالات کا جائزہ لیں گے اور وہ حسرت سے یہ کہیں گے کاش ہم ان کی جگہ ہوتے کیونکہ وہ نہیں مارے گئے جو ان مشکل کی راہوں پر خدا کے فضل نے انہیں ثبات قدم عطا فر مایا۔ پر یہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی ایک سیر ہے جس کو حمد کے مضمون کے ساتھ جب آپ