خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 261

خطبات طاہر جلد ۱۰ 261 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۹۱ء سمت سے ہیں اس لئے اس رمضان میں خاص طور پر دعائیں کریں کہ اب جب کہ ایک ہی طاقت ہے جو دنیا پر غالب آچکی ہے اور وہ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی طاقت ہے تو اللہ تعالیٰ اس عظیم طاقت کو جیسی طاقت آج تک کبھی دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں ابھری کہ وہ ساری دنیا پر اس طرح غالب آچکی ہو کہ مقابل کی ہر طاقت اس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے ، یہ توفیق نہ دے کہ خدا کے بندوں سے سے ظلم علم کا کا سلوک کرے ۔ اس دعا کی بڑی شدید ضرورت ہے ۔ ۔ دعا دعاً کی یہ ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ امریکہ کو یہ ہوش دے ۔ یہ عقل دے کہ وہ خدا بننے کی بجائے خدا کا نمائندہ بننے کی کوشش کرے ۔ اور اگر واقعی امریکہ اس طاقت سے سچے دل کے ساتھ استفادہ کرنا چاہتا ہے اور دنیا میں امن پیدا کرنا چاہتا ہے تو سوائے اس کے اور کوئی حل نہیں کہ امریکہ انصاف پر قائم ہو جائے کیونکہ عدل کے بغیر دنیا میں کوئی امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اور جو شخص عدل پر قائم ہو وہ خدا کا نمائندہ ہوسکتا ہے خدا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک گہرا راز ہے کہ عدل کے فقدان سے شرک پیدا ہوتا ہے خدا کے عادل بندے مشرک نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے خدا کے عادل بندے خدائی کے دعوے بھی نہیں کر سکتے ۔ پس امریکہ کے لئے یہ دعا کرنی چاہئے کہ تاریخ میں کبھی کسی قوم کو ایسا موقعہ نصیب نہیں ہوا جیسا کہ امریکہ کو نصیب ہوا ہے کہ تمام دنیا کو اپنی طاقت کے زور سے عدل سے بھر دے اور عدل کے نتیجے میں دنیا کو انصاف عطا کرے اور خدا اس کو یہ توفیق نہ دے کہ اس کے برعکس خود خدائی کا دعویدار بن جائے اور زور اور طاقت کے ساتھ اور جنبہ داریوں کے نتیجے میں اور سیاسی چالبازیوں کے نتیجے میں دنیا سے اپنی طاقت کا لوہا منوانے کی کوشش کرے اگر امریکہ نے ایسا کیا تو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، اللہ تعالیٰ ایسی قوموں کو کچھ مہلت تو دیتا ہے لیکن لمبی مہلت نہیں دیا کرتا اور پھر خدا کی تقدیر ان کو پکڑا کرتی ہے۔ اس کے مقابل پر تیسری دنیا کی قوموں کے لئے بہت بڑے ہولناک دن آنے والے ہیں وہ نہتے ہو چکے ہیں ان کے سروں کی چھت اڑ گئی ہے۔ کوئی انکا اس دنیا کا سہارا نہیں رہا۔ اس لئے ان کے لئے دعا کریں کہ وہ نیلی چھت والے سے تعلق پیدا کریں اس خدا سے تعلق پیدا کریں جس کی چھت ساری کائنات پر محیط ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انہیں ابتلاؤں سے بچائے گا اور یہ بھی ممکن نہیں جب تک وہ خود عدل پر قائم نہ ہوں کیونکہ غیر عادل کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا ۔ یہ