خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 255

خطبات طاہر جلد ۱۰ 255 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۹۱ء وو عبادت کے ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔ ایسی صورت میں ” عبد عابد بن جاتا ہے اور ابد بن جاتا ہے اور ایک عام انسان نہیں رہتا۔ یوں تو ہر انسان خدا کا بندہ ہے لیکن سورہ فاتحہ ایک عبد کو عابد میں تبدیل کرتی ہے۔ تب اس کا یہ حق ہے کہ وہ یہ عرض کرے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ سب کچھ تیرے خزانے میں جمع ہو گیا ہمارے پاس تو رہا ہی کچھ نہیں اس لئے ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور تیری مدد کے بغیر ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس نَسْتَعِينُ میں بہت کچھ شامل ہے اس نَسْتَعِین کی دعا میں ہر دعا مانگی جا سکتی ہے اور اس دعا میں از خود حمد کی طلب بھی شامل ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ جب انسان ان تمام مراحل سے گزرتا ہے اور پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے گزرتا ہے احتیاط کے ساتھ گزرتا ہے، شرک سے اپنے آپ کو کلیۂ پاک کر لیتا ہے اور حقیقت میں خدا کے حضور اپنا مقام سمجھنے لگ جاتا ہے تو اس وقت جب إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو اس کی کہی اور ان کہی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کے بعد پھر جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہتا ہے تو پھر دعا ئیں ایک نئے مضمون میں داخل ہو جاتی ہیں ۔ انعام والے مضامین ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں جن کی کوئی حد نہیں ہے اور ایک جاری سلسلہ ہے۔ اس ضمن میں یہ یاد رکھیں کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مضمون میں ایک پوری تاریخ ہمارے سامنے رکھ دی گئی ہے چونکہ اس سے پہلے میں اس بات پر گفتگو کر چکا ہوں اس لئے مزید اسے نہیں چھیڑ تا لیکن اَنْعَمْتَ کے چار مراتب ہیں اور سورۃ فاتحہ کی ابتداء میں خدا کی چار صفات پیش فرمائی گئی ہیں ۔ ان چاروں صفات سے جس انسان کا تعلق کامل ہو جائے گا وہ انعمت میں آخری مقام تک پہنچے گا اور جس حد تک اس کا صفات باری تعالیٰ سے تعلق کمزور ہوگا اسی حد تک اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں اسے نسبتاً ادنی مقام نصیب ہوگا ۔ پس یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی مقام ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ ہر مقام جاری ہے لیکن سورۂ فاتحہ میں صفات باری تعالیٰ کو جس رنگ میں پیش فرمایا گیا ہے ان صفات کا آنحضرت کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے جس کامل عبودیت کے ساتھ جس کامل انکسار کے ساتھ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے نفس کو حمد سے خالی کر کے ربوبیت سے تعلق جوڑ ارحمانیت