خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 250

خطبات طاہر جلد ۱۰ میں ذکر کر چکا ہوں ۔ 250 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۹۱ء ایک اچھا مصور ہے، ایک اچھا معلم ہے، ایک اچھا صناع ہے غرضیکہ انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے جتنی صلاحیتیں پیدا فرمائی ہیں خواہ وہ جسمانی ہوں علمی عقلی ہوں یا قلب سے تعلق رکھنے والی ہوں ان سب پر یہی مضمون صادق آتا ہے کہ ہر انسان بالآخر اپنی مدح میں ڈوب جاتا ہے اور ایسا شخص جب بار بار خدا کے حضور یہ اقرار کرتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ تو اس کی روز مرہ کی زندگی کا اس اقرار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ پس جب نماز پڑھتے ہوئے آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہتے ہیں تو اس آئینے میں اپنی صورت دیکھا کریں اور غور کیا کریں کہ آپ روز مرہ کے زندگی کے تجارب میں کتنی مرتبہ عملاً آپ نے واقعی حمد خدا ہی کے حضور پیش کر دی جو حمد بنی نوع انسان نے آپ کے حضور پیش کی آپ نے اسے اپنا نہیں سمجھا بلکہ کامل عاجزی اور انکسار کے ساتھ التحيات لله والصلوات والطيبات کہتے ہوئے اس حمد کو خدا ہی کے حضور پیش کر دیا کیونکہ سب تحفے اسی کے حضور پیش کرنے کے لائق ہیں اور خود اس حمد سے خالی ہو گئے ۔ اگر آپ ایسا کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیں تو آپ کا دل حمد سے خالی نہیں رہے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس حد کو ہمیشہ بڑھا کر واپس کرتا ہے جو اس کے حضور پیش کی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان واقعی لائق حمد بننا شروع ہو جاتا ہے پھر جو اس کی حمد کی جاتی ہے وہ خدا کی آواز کے ساتھ حمد کی جاتی ہے۔ خدا کی آواز دلوں میں حرکت پیدا کرتی ہے۔ خدا کی آواز ذہنوں پر قابض ہوتی ہے اور بنی نوع انسان سے ایسے شخص کی حمد کے جو گیت اٹھتے ہیں وہ اسے محموداور محمد بنا دیتے ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ وعلی آلہ وسلم کا نام محمد رکھنے میں ایک بہت بڑی حکمت تھی کہ آپ نے اپنی تمام حمد ساری زندگی ہمیشہ کلیہ خدا کے حضور پیش کی اور آپ ہمیشہ حمد سے خالی ہوتے چلے گئے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو محمد بنا دیا۔ پس احمد محمد میں تبدیل ہوتے ہیں اگر وہ خالص ہوں اور سچے ہوں اور مخلص ہوں اور احمد کے طور پر خدا کی حمد کریں اور اپنا بت بیچ میں حائل نہ ہونے دیں اس نقطہ نگاہ سے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا مضمون انسانی تربیت کا ایک بہت ہی لمبا سلسلہ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ سلسلہ ساری زندگی ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ مضمون ایسا