خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد ۱۰ 221 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء ه برباد سال بعد یعنی اس حملے کے 48 سال بعد جس میں اس نے یروشلم کی بستی اور فلسطین کو کلیہ تباہ ، کر دیا تھا۔ اہل فارس کی مدد سے یہود کو دوبارہ ارض مقدس پر غلبہ نصیب ہوا اور یہ واقعہ ۵۳۹ قبل مسیح کا ہے جبکہ سائرس Syrus بادشاہ کی مدد سے یہود کو واپس یروشلم میں لے جا کر آباد کر دیا گیا اور اس کے بعد پھر ان کو کئی سو سال تک وہاں رہنے کی توفیق ملی اور جیسا کہ بعض دوسری کتب میں پیشگوئی کے رنگ میں یہ درج ہے کہ یہ دونوں شہر دوبارہ کسی ہو جائیں گے اور دوبارہ گندگی اختیار کریں گے اور پھر ان کو سزا ملے گی ۔ پس قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا ہے کہ مقدر تھا مقدر تھا کہ دو دفعہ تم زمین میں فساد کرو دو دفعہ تم بغاوت کرو بعینہ اسی طرح ہوا ہے پہلے فساد برپا کیا۔ اس کے بعد دوسری قو میں آئیں پھر انہوں نے ان کے خلاف بغاوت کی اور بغاوت کے بعد کچلے گئے ہیں ۔ چنانچہ دوسری دفعہ کے بعد جب سزا کا سلسلہ شروع ہوا تو رومن بادشاہ Pompey نے 63 قبل مسیح میں جو دا Judah پر قبضہ کر لیا اور پھر وہاں سے ان کی تباہی کا آغاز کیا لیکن اس کے باوجود 132 بعد مسیح تک یہ تباہی مکمل نہیں ہوئی 132 بعد مسیح میں Hadrian (ھینڈرین ( جو ایک بہت بڑا رومن Emperor ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رومن بادشاہوں کی تاریخ میں غیر معمولی مقام رکھتا ہے۔ یہ وہی بادشاہ ہے جس کی سلطنت انگلستان سے لے کر افریقہ تک اور پھر دریائے فرات تک پھیلی ہوئی تھی اور انگلستان بھی اس کو آنے کا موقعہ ملا۔ یہاں شمال میں ایک دیوار ہے جس طرح دیوار چین بنائی گئی ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی 80 میل بعض کہتے ہیں 74-76 میل ہے۔ یہ ایک بہت بڑی دیوار ہے جو آج تک قائم ہے یہ اسی Hadrian بادشاہ نے بنائی تھی ۔ پس جب یہودیوں نے وہاں دوبارہ بغاوت کی تو اس بغاوت کو کچلنے کے لئے Hadrian بادشاہ نے اپنے اس جرنیل کو واپس بلا لیا جو انگلستان پر حکومت کرتا تھا اور اس نے غالباً یہاں اپنا تسلط جمائے رکھا تھا ۔ بہت قابل جرنیل تھا اس کو بلا کر یہود کو کچلنے کے لئے بھجوا دیا ۔ یہ واقعہ 132ء کے لگ بھگ ہوا سو فیصدی تاریخ دان متفق نہیں ۔ 132ء سے لے کر 133 - 34 تک یہ معاملہ مکمل ہو گیا تھا اس نے ان کو ایسا خوفناک مزا چکھایا ہے بغاوت کا کہ مورخین کہتے ہیں کہ 5 لاکھ یہودیوں کو وہاں تہ تیغ کیا۔ پہلے تو مجھے خیال آیا یہ ہو نہیں سکتا ۔ یہ غلطی ہوگی لیکن جب میں نے قرآن کریم کی پہلی پیشگوئی کو پڑھا کہ ہم تمہیں بہت