خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد ۱۰ 219 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء پہلی بغاوت تم کرو اور تمہیں سزا کرو اور تمہیں سزا ملے اور وہ سزا دے دی گئی ۔ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَكُمْ اَكْثَرَ نَفِيرًا (بنی اسرائیل : ۷) پھر ہم نے تمہیں دوبارہ ان پر ایک طاقت عطا کردی ، غلبہ عطا فرمادیا اور ہم نے تمہاری مدد کی اسی ذریعے سے، اموال کے ذریعے سے بھی اور اولاد کے ذریعے سے بھی اور پھر ہم نے تمہیں بڑھاتے ہوئے ایک بڑی طاقت بنادیا۔ إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا (بي اسرائیل: ۸ ) لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر تم اب حسن سلوک کرو گے اور پہلی بدیاں ترک کر دو گے تو دراصل اپنے سے ہی حسن سلوک کرنے والے ہو گے اور اگر تم نے پھر وہی بدی اختیار کی جو پہلے کر چکے تھے تو پھر وہ بدی بھی تمہارے خلاف ہی پڑے گی یعنی عملاً تم اپنے سے وہ بدی کرنے والے ہوگے۔ فرمایا : فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ (بنی اسرائیل : ۸) پھر دوسری دفعہ وعدہ پورا کرنے کا وقت بھی آگیا جیسا کہ دو وعدے کئے گئے تھے ۔ لِيَسُو ا وُجُوهَكُمْ کہ یہ تقدیر پوری ہو کہ تم پھر بدی کرو گے اور اس بدی کا مزا چکھو گے اور تمہارے چہرے رسوا اور کالے کر دیئے جائیں گے وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيرًا (بنی اسرائیل: ۸) تا کہ وہ دوبارہ مسجد میں داخل ہوں جس طرح پہلے داخل ہوئے تھے اور اسے تباہ و برباد کر دیں۔ ( یہاں ہیکل سلیمانی مراد ہے ) یہ دو وعدے تاریخ میں پورے ہو گئے ، ایک تیسرا بھی ہے ، اس کا بھی قرآن کریم کی اسی سورۃ میں ذکر ملتا ہے ۔ (چنانچہ ) اگلی آیت یعنی نویں آیت میں فرمایا: عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ (بنی اسرائیل (۹) کہ اس کے بعد پھر جب خدا چاہے گا اور اگر خدا نے چاہا بلکہ علی کا مطلب ہے ۔ ہو سکتا ہے عین ممکن ہے کہ خدا یہ چاہے ۔ أَنْ يَرْحَمَكُمْ کہ ایک دفعہ پھر تم پر رحم فرمائے لیکن یا درکھنا جب تم پر رحم کیا جائے گا تو اس بات کو نہ بھلانا وَ إِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا اگر تم نے پھر ان سب بدیوں کا اعادہ کیا اور تکرار کی تو ہم بھی ضرور ان سزاؤں کا اعادہ کریں گے جن کے دو دفعہ تم ماضی میں مزے چکھ چکے ہو۔ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ حَصِيرًا اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں پھر اور کوئی چوتھی حرکت ان کی طرف سے نہیں ہو گی کیونکہ پھر جہنم کا ذکر ہے ۔ اس کے بعد دنیا کے معاملات طے اور ختم پھر آخری فیصلہ قیامت کے بعد ہوگا اور جہنم کے ذریعے سزادی جائے گی ۔ پہلے دو وعدوں کے متعلق -