خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد ۱۰ 212 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء کے خطابات بھی دے گا اور ان کی طرف دوستی کے ہاتھ بھی بڑھائے گا ۔ ہر قسم کے فائدے جو ذلت اور رسوائی کے نتیجے میں کمینگی سے حاصل ہو سکتے ہیں وہ تیسری دنیا کے ملکوں کو حاصل ہوسکیں گے لیکن عزت کے ساتھ وقار کے ساتھ سر بلندی کے ساتھ اگر اس دنیا میں اس یونائیٹڈ نیشنز کے ساتھ وابستہ رہ کر کوئی قوم زندہ رہنا چاہئے تو اس کے کوئی امکان نہیں ہیں ۔ پس ایک حل اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی جنگ کے بعد 1919ء میں of nations League بنی پھر دوسری جنگ کے بعد 1945ء میں United Nations کا قیام عمل میں آیا اس خوفناک یک طرفہ جنگ کے بعد تیسری دنیا کی ایک نئی یونائیٹڈ نیشنز کا قیام کیا جائے اور اس میں صرف غریب اور بے بس ممالک اکھٹے ہوں وہ جو Neutrality کی تحریک چلی تھی کہ نیوٹرل ممالک اکٹھے ہوں وہ بوسیدہ ہو چکی ہے۔اس کے اب کوئی معنی نہیں رہے اس میں جان ختم ہو چکی ہے ۔ اب ایک نئی تحریک چلنی چاہئے جس میں ہندوستان اور پاکستان اور ایران اور عراق وغیرہ ایک بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اس میں مذہبی تعصبات کو بیچ میں سے نکالنا ہوگا۔ اس لئے ایک مشورہ میرا یہ بھی ہے کہ مسلمان ممالک اگر چہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کے تعلق رکھیں خاص بھائی چارے کے نتیجے میں ذمہ داریاں ادا کریں لیکن مسلمان تشخص کو غیر مسلم تشخص سے لڑا ئیں نہیں۔ اگر (polarization) یعنی یہ تقابل باقی رہا کہ مسلمان ایک طرف اور غیر مسلم ایک طرف تو خواہ غیر مسلم کہتے وقت آپ دماغ میں صرف مغربی طاقتیں رکھتے ہوں لیکن جاپان بھی غیر مسلم ہے، کوریا بھی غیر مسلم ہے ، ویت نام بھی غیر مسلم ہے ہندوستان بھی غیر مسلم ہے۔ غرضیکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ پیغام ہمیں بھی پہنچ گیا ہے۔ اس لئے نہایت ہی جاہلانہ خودکشی والی پالیسی ہے کہ مسلمان کے تشخص کو غیر مسلم کے تشخص سے لڑاویں اور اس کے نتیجے میں کچھ بھی حاصل نہ کریں اور جو کچھ حاصل ہے وہ کھو دیں ۔ پس دنیا میں تیسری دنیا کے اتحاد قائم ہو ہی نہیں سکتے جب تک قرآن کریم کی تعلیم وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى پر عمل نہ کیا جائے اور اس تعلیم میں مذہبی اختلاف کا ذکر ہی کا کا ذکر ہی کوئی موجود نہیں ۔ اس تعلیم کی رو سے مشرک سے بھی اتحاد ہو سکتا ہے یہودی سے بھی ہو سکتا ہے ، عیسائی سے بھی ہوسکتا ہے ، دہریہ سے بھی ہوسکتا