خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 177
خطبات طاہر جلد ۱۰ 177 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء کا نام Mr۔Frank Kellogg تھا) انہوں نے یورپ میں پندرہ مغربی ممالک کی ایک کا نفرنس بلائی جس کا عنوان یہ تھا کہ جنگ کو Out Law کر دیا جائے یعنی ایسا مفرور مجرم قراردیدیا جائے جس کے قتل کا سب کو حق ہے۔ عملاً یہ اعلان تھا کہ ہم اب جنگ کو ہمیشہ کے لئے دفنا دیں گے پندرہ ملکوں کے نمائندے اکٹھے تھے جس ہال میں یہ تقریب منعقد ہوئی وہاں جب سب سے پہلے جرمن نمائندہ اپنا سنہری قلم لے کر دستخط کرنے لگا تو سارا ہال تالیوں کی گونج سے لرز نے لگا کسے خبر تھی کہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد یعنی 1928ء کو گیارہ سال بمشکل گزریں گے کہ وہی مردہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا اور ایک ملک یا ایک وزیر اعظم کو تاخت و تاراج نہیں کرے گا بلکہ اس رے گا بلکہ اس کی ہیبت سے مشرق و مغرب تک قوموں کے ایوان لرزنے لگیں گے اور بموں کے دھماکوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے گی ۔ پس دیکھو آن فانا یعنی تاریخ کے نقطہ نگاہ سے چند سال آناًفاناً کی بات ہوا کرتی ہے، آناً فاناً کیسے مناظر بدل گئے۔ خدا زندہ ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ انسانی نسلیں آتی ہیں اور گزر جایا کرتی ہیں۔ اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ تم تاریخ کے ان اتفاقات پر بھروسہ رکھو میں یہ کہتا ہوں کہ تاریخ کے اس ادلنے بدلنے کے مضمون کو پیش نظر رکھو اور مایوس نہ ہو لیکن بھروسہ خدا پر رکھو جو دائمی ہے اور جس پر دنیا کی کوئی اقت غالب نہیں آسکتی ۔ وہ دنیا کی اور کائنات کی ہر طاقت کو مغلوب کر سکتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ان طاقتوں کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔ پس اگر تم مظلوم اور مجبور ہوا اور درد سے کراہ رہے ہو تو اس درد کو دعاؤں میں خدا کے حضور پیش کرو۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ تمہاری ہر شکست اس طریق پر فتح میں تبدیل ہو جائے گی۔ میں اتحادی فوجوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں اور اتحادی ملکوں کے سربراہوں کو بھی یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اگر آپ کو بنی نوع انسان کی بھلائی مقصود ہے۔ اگر واقعی آپ دائی امن چاہتے ہیں تو آپ کی سیاست کے اصول تو بار بار پٹ چکے ہیں اور کبھی بھی دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس لئے خدا کے لئے اب تو عبرت حاصل کرو اور اسلام کے سیاست کے ان اصولوں کو اپناؤ جو تقویٰ کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں۔ جن کی جڑیں تقویٰ میں ہیں جو تقوی کے پانی سے پلتے ہیں اور تقوی کی طاقت سے نشو نما پاتے ہیں۔ اگر تم اسلام کے ان تین اصولوں کو اپنا لوجن کا میں ذکر کر چکا ہوں تو یہی ایک ذریعہ ہے کہ جس سے دنیا کو دائی امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو