خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد ۱۰ 14 خطبه جمعه ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء چندہ دینے کے لحاظ سے سوئٹزر لینڈ نمبر ایک ہے پھر امریکہ، پھر ایران ، پھر جاپان ، پھر ہالینڈ اور فرانس اکٹھے اور پھر مجی، پھر کینیڈا ، پھر جرمنی اور دسویں نمبر پر یوں کے ہے۔ اس پہلو سے امریکہ نے اور کینیڈا نے یو کے کی پیروی نہیں کی اور بچ گئے ۔ کل وعدوں کا جہاں تک تعلق ہے یہ بھی میں پاکستان کے وعدے اور وصولیوں کا ذکر چھوڑ کر صرف بیرون کا کر رہا ہوں ۔ سال ۱۹۸۹ء میں وعدے63552 پونڈ کے تھے۔ ان وعدوں میں بہت سے ایسے ممالک شامل نہیں ہیں جن سے روپیہ منتقل نہیں ہو سکتایا جو اپنے اعداد و شمار بہت تاخیر سے بھجواتے ہیں ۔ اس ضمن میں میں آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ ہمارا شعبہ مال خدا کے فضل سے بڑی مستعدی سے کام کرتا ہے۔ اگر چہ یہاں ہمارے شعبہ حال تحریک جدید میں کوئی بھی مستقل تنخواہ دار یا تنخواہ تو ہمارے چلتی نہیں گزارا الاؤنس سمجھ لیں ، گزارا الاؤنس پانے والا کارکن نہیں ہے اور صرف دو کارکن ایسے ہیں جو طوعی طور پر اور وقف کی طرح ایک خدمت بجالا رہے ہیں مگر طوعی طور پر ۔ ان میں ہمارے وکیل المال یا ایڈیشنل وکیل المال کہنا چاہئے کیونکہ اصل وکیل المال تو ربوہ میں ہیں ایڈیشنل وکیل المال محمد شریف صاحب اشرف ہیں اور ان کے ساتھ چو ہدری محمد رفیق صاحب خدمت سر انجام دیتے ہیں دونوں ہی خدا کے فضل سے رضا کارانہ خدمت کرنے والے والے ہیں لیکن ایسا عمدہ کام سنبھالا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک پورا بڑا دفتر کام کر رہا ہے اور گھڑی کی طرح باقاعدگی کے ساتھ اپنے اپنے وقت پر جو کام ہونے چاہئیں وہ شروع کر دیتے ہیں چنانچہ ان کا طریق یہ ہے کہ دسمبر کے آغاز سے دو ڈیڑھ مہینے پہلے سے با قاعدہ تمام جماعتوں کو یہ خط لکھنے شروع کر دیتے ہیں کہ وقف جدید کا سال اختتام پذیر ہے آپ فوراً رپورٹیں تیار کریں اور دسمبر کے آغاز سے پہلے پہلے اس دفتر تک پہنچ جانی چاہئیں ۔اس پہلو سے جماعتوں کا جو رد عمل ہے وہ کوئی اتنا خوش کن نہیں ہے۔ لیکن گزشتہ سال کے مقابلے پر پھر بھی کچھ بہتر Response یا جواب ہے ۔ گزشتہ سال ۲۰ جماعتوں نے بروقت رپورٹ بھجوائی تھی امسال 26 جماعتوں سے بر وقت رپورٹیں موصول ہوئی ہیں اور جہاں تک رپوٹوں کے باقاعدہ آنے کا تعلق ہے خواہ وہ وقت پر آئی ہوں یا بعد میں تو خدا کے فضل سے 52 مختلف ممالک سے گزشتہ سال رپورٹیں آئی تھیں ان 52 کے اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہوئے یہ اعداد و شمار جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں بنائے گئے ہیں اس لئے ان کے متعلق ایک بات یا د رکھنی چاہئے کہ کچھ اندازے ان میں شامل ہیں۔