خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 173

خطبات طاہر جلد ۱۰ 173 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء دریغ جھوٹا پروپیگنڈا کرو۔ یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ جتنا زیادہ فریب اور ملمع کاری سے کام لیا جائے اتنا ہی زیادہ بہتر اور قوم کے مفاد میں ہے ۔ پس دشمن کو صرف مبہ کو صرف میدان جنگ میں شکست نہ دو شکست نہ دو بلکہ جھوٹے پرو پیگنڈے کے ذریعے اس کو نظریات اور اصولوں کی دنیا میں شکست خوردہ بنا کے دکھاؤ۔ ازل سے جب سے سیاست کا تاریخ میں ذکر ملتا ہے یہی تینوں اصول ہمیشہ ہر جگہ کارفرما دکھائی دیں گے سوائے ان استثنائی ادوار کے جب سیاست بعض شرفاء کے ہاتھ میں چلی گئی ہو جو دینی اور اخلاقی اقدار کی قدر کرتے ہوں ۔ یا جب مذہب کی دنیا میں خدا تعالیٰ نے دنیاوی طاقت بھی عطا کر دی ہو۔ قرآن کریم اس اصول کے بالکل برعکس یہ اصول پیش فرماتا ہے: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ (انج : ۳۱) پھر دوسری جگہ فرمایا: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ بی (الانعام : ۱۵۳) لفظوں کی لڑائی میں بھی لفظوں کے جہاد میں بھی تمہیں سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ سچائی کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا اور جھوٹ کو قبول کرنا، یہ شرک کی طرح نا پاک اور نجس ہے۔ فرمایا وَ إِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا بات بھی کرو تو عدل کے ساتھ کرو لَوْ كَانَ ذَا قُرْ بی خواہ تمہاری بات کا نقصان تمہارے قریبی کو پہنچتا ہو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو۔ d آج کی اسلامی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خدا اور دین محمد کے نام پر جہاد کا اعلان کرتے ہیں لیکن سیاست کی تینوں شرائط لادینی سیاست سے اخذ کر لی ہیں اور قرآن کریم کی اس غالب سیاست کو چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں اب تک جتنی دفعہ مسلمان اپنے اور اسلام کے دشمنوں سے ٹکرائے ہیں الا ماشاء اللہ معمولی اتفاق کے سوا ہر دفعہ نہایت ہی ذلت ناک اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کا یہ کھلا کھلا بلکہ اٹل وعدہ تھا کہ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (الج: ۴۰) که خبردار ! میری خاطر ، میرے نام پر جہاد کے لئے نکلنے والوسنو ! تم کمزور ہو مگر میں کمزور نہیں ہوں ۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اور یہ وعدہ اٹل ہے إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ ان کمزور اور دنیا کی نظر میں نہایت حقیر لوگوں کو جو خدا کی خاطر جہاد پر نکلے ہیں ضرور خدا کی نصرت عطا ہوگی اور ان کو اپنے غیروں پر غالب کیا جائے گا۔ یہ سوال آج مسلمان ذہن کو جھنجوڑ رہا ہے اور اسی لئے میں نے اس کو بہت اہمیت دی تا کہ مشرق سے مغرب تک کے دکھے ہوئے مسلمان دلوں کو سمجھاؤں کہ یہ شکست اسلام کی شکست نہیں