خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد ۱۰ 167 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء میں کے متعلق میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں کچھ بیان کروں گا اور یہود کو بھی مشورہ دوں گا اور مسلمانوں کو بھی اور باقی دنیا کو بھی ۔ آج کا وقت جدید انسانی تاریخ میں انتہائی نازک وقت ہے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم اس ظلم اور استبداد کے دھارے کا رخ موڑ سکتے ہیں ۔ ابھی معاملہ اتنا زیادہ ہاتھ سے نہ سے نہیں نکلا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ان مشوروں کو قبول کر لیا گیا جو میں قرآنی تعلیم کے نتیجے میں ، اُس کی مطابقت دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں تو انشاء اللہ اس ظلم کے دھارے کا رخ ہم واپس موڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہماری حیثیت صرف عاجز دعا گو بندوں کی حیثیت ہے اور ہماری دعائیں لازماً وہ کام کر سکتی ہیں جو ہماری ظاہری کوششیں بظاہر نہیں کر سکتیں ۔ بظاہر کیا؟ فی الحقیقت بھی نہیں کر سکتیں ۔ ہماری کوششوں کی کوئی حیثیت نہیں اتنی بھی نہیں ہے کہ ہم جو امریکہ کو ایسے الفاظ میں مخاطب کر رہے ہیں ، اس سے ان کے وجود کا ایک بال بھی کا نیچے یا ہلے یا اس میں جنبش محسوس ہو، اس کے باوجود میں جانتا ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ یہ مقدر ہے کہ دنیا کے آخر پر اگر دنیا کی تاریخ کا رخ موڑنا ہے تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی دعاؤں نے موڑنا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے عشاق کی دعاؤں نے موڑنا ہے اور خدا کے عاجز بندوں کی پکھلی ہوئی دعاؤں نے موڑنا ہے ۔ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود علی الصلوة والسلام یہ لکھتے ہیں کہ یہ مقدر تھا اور ہے اور ایسا ضرور ہوگا ۔ آپ فرماتے ہیں جب مسیح کی روح آستانہ الوہیت میں پچھلے گی اور راتوں کو اس کے سینے سے درد ناک آواز میں اٹھیں گی تو خدا کی قسم دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس طرح پگھلنے لگیں گی جیسے برف دھوپ میں پکھلتی ہے اور اس طرح ان طاقتوں کے ہلاک ہونے کے دن آئیں گے اور ان کے تکبر کے ٹوٹنے کے دن آئیں گے ۔ (خطبہ الہامیہ: روحانی خزائین جلد نمبر 16 صفحہ 317 ،318) صلى الله مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو آج نہیں لیکن مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح جماعت احمدیہ میں زندہ ہے۔ پس اے مسیح موعود کی روح کو اپنے سینوں میں لئے ہوئے احمد یو! خدا کے حضور راتوں کو اٹھو اور اس طرح پگھلو اور درد ناک کراہ کے ساتھ اور دردناک چیخوں اور سسکیوں کے ساتھ خدا کے حضور گریہ وزاری کرو اور یقین رکھو کہ جب تمہاری روحیں خدا کے آستانے پر پکھلیں گی تو دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے پگھلنے کے دن آجائیں گے اور یہ وہ تقدیر ہے جسے کوئی دنیا کی