خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۱۰ 161 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء گی پھر اگلا قدم اٹھے گا۔ پھر اس کے بعد اگلا قدم اٹھے گا۔ پھر اگلا قدم اٹھے گا۔ اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ سکے اور مدینے کو خطرہ ہے اور توحید کو خطرہ ہے تو اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے انہوں نے بالآخر لازماً تیل کے چشموں پر قابض ہونا ہے یعنی نیت ان کی یہ ہے ۔ آگے خدا کی ہے یہ ہے کی تقدیر اور رنگ دکھائے اور ہماری دعا ئیں بارگاہ الہی میں قبول ہوں تو اور بات ہے ورنہ بظاہر جو منصوبہ ہے وہ یہی ہے۔ اس کے بعد یہ مغرب سے اپنے بدلے لیں گے اور ایسے ہولناک بدلے لیں گے کہ مغرب ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ یہ جنگ کا بگل بجانے والی قوم ہے اور جنگ کا بگل David Ben-Gurion بجا چکے ہیں۔ تقریباً 4000 سال پہلے کی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی ہے کہ جنگ اور جنگ اور جنگ اور اس کے سوا تمہارے قیام کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ پس اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس خوش فہمی میں ہیں کہ وہ یہودیوں کو بھی پاگل بنارہے ہیں اور مسلمانوں کو بھی پاگل بنارہے ہیں اور ایک کو دوسرے کے خلاف لڑا رہے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ امریکہ کے متعلق میں نے ایک یہ بھی بیان کیا تھا کہ بہت سے نفسیاتی عوامل ہیں جو امریکہ کو اپنی بعض پرانی ناکامیوں کے داغ مٹانے کے لئے عراق کو ذلیل و رسوا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں میں نے ویٹنام کا ذکر کیا تھا اور ویٹنام کے متعلق اب میں خلاصہ آپ کو بتاتا ہوں کہ وہاں امریکہ کی خودی کو کس طرح توڑا گیا ہے اور کس طرح دنیا کی سب سے عظیم طاقت کے تکبر کو پارہ پارہ کیا گیا ہے۔ ویٹنام کی جنگ کا آغاز 4 اگست 1946 ء کو ہوا ہے اور عجیب اتفاق ہے یہ تو ارد ہے یا تقدیر کی کوئی بات ہے کہ وہ آغاز بھی ایک Strom سے ہوا تھا اس Strom کا نام امریکن مؤرخین Tropic Storm کہتے ہیں۔ واقعہ یہ ہوا کہ دو امریکن جہاز جب شمالی ویٹنام اور جنوبی ویٹنام کی جنگ جاری تھی اور اشتراکی ویٹنا میز ، جنوبی غیر اشترا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو امریکہ کو بہانے کی تلاش تھی کہ کسی طرح اس ملک میں دخل دے کر جنوبی ویٹنام کی حمایت میں شمالی ویٹنام کو شکست دی جائے۔ چنانچہ ان کا ایک جہاز جس کا نام Maddox تھا Maddox جہاز شمالی ویٹنام کے سمندر کے اس حصے میں داخل ہو گیا جو درحقیقت ان کی اپنی حدود کا علاقہ تھا ، جس پر ان کی بالا دستی ہوتی ہے۔ اس پر انہوں نے کچھ پڑول Boats بھیجیں تاکہ وہ اس جہاز پر حملہ کریں اور انہوں نے