خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 149
خطبات طاہر جلد ۱۰ 149 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء آنکھیں ڈال کر ذبح کیا گیا اور بڑے ظلم اور سفا کی کے ساتھ نیزوں میں پرویا گیا اور دوسرے طریقوں پر ہلاک کیا گیا اور ایک ذی روح کو وہاں زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ ہزار ہا اگر نہیں تو سینکڑوں ایسی بستیاں ہیں جنہیں کلیہ خاک سے ملا دیا گیا۔ کوئی ایک عمارت بھی کھڑی نہیں چھوڑی گئی۔ صرف 77ء کے ایک حملے کے دوران اڑھائی لاکھ فلسطینی بے گھر کئے گئے اور یہ سارے امور ایسے ہیں جن کے متعلق مغرب خاموش ہے اور آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ پس عرب ہوں یا دوسرے مسلمان ہوں ، وہ حیرت سے د دیکھتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ایک طرف سے ظلموں کے انبار کھڑے کئے جارہے ہیں ، طوفان مچائے جارہے ہیں اور مقابل پر کوئی حس نہیں ہے۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو انصاف کے ساتھ اسرائیل کو مخاطب کر کے کہے کہ آج تم نے انسانی ظلموں کی تاریخ میں ایسے ابواب کا اضافہ کیا ہے جس سے انسانی ظلموں کی تاریخ کو شرم آتی ہے لیکن ان سب ظلموں سے چشم پوشی ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کی بہت سی مثالیں ساتھ ہیں لیکن وقت کی رعایت سے میں ان کو پڑھ نہیں سکتا۔ اگر موقعہ ہوا تو بعد میں چھپ جائیں گی۔ وحشت و بربریت کی تاریخ میں اسرائیل کی طرف سے جو سیاہ ترین باب ہے اس کا اضافہ 1982ء میں ہوا۔ انہوں نے لبنان پر حملے کا ایک منصوبہ بنایا، جس کا نام رکھا تھا Opration peace for Galilee یعنی گیلیلی کی بستی کے لئے امن کے تحفظ کا منصوبہ ۔اس ضمن میں میں جو نقشہ کھینچتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے Dispossessed اپنی کتاب David Gilmour کہ اسرائیل نے گیلیلی سے متعلق جو یہ منصوبہ بنایا ، امر واقعہ یہ ہے کہ یہ اس منصوبے کے لئے یہ بہانہ پیش کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے تحفظ کے لئے لبنان کے جنوب سے فلسطینیوں کے حملے کی روک تھام کی خاطر اور ان کے مسلسل حملوں سے تنگ آکر یہ منصوبہ بنایا۔ مصنف لکھتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ جولائی 1981ء میں فلسطینیوں کا اور اسرائیلیوں کا ایک امن کا معاہدہ ہوا Gilmour لکھتا ہے کہ جولائی 1981ء سے لے کر مئی 1982 ء تک جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا ہے اس وقت تک فلسطینیوں سے اس معاہدے کی ایک بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس تمام عرصہ میں کسی فلسطینی نے اسرائیل پر لبنان سے کوئی حملہ نہیں کیا دوسرے وہ کہتا ہے کہ گلیل کو لبنان کی طرف سے کبھی بھی کوئی خطرہ در پیش نہیں ہوا۔ تیسرے وہ کہتا ہے کہ 1982ء سے بہت پہلے وہ ان کے حوالوں سے ثابت