خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 136

خطبات طاہر جلد ۱۰ 136 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء ہے محمد مصطفیٰ کے خدا کی وحدت کو، تو حید کو خطر حید کو خطرہ ہے ، خطرہ ان کے نام کو ۔ رہ ان کے نام کو ہے۔ توحید کو تو انشاء اللہ کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ لیکن خدا کی غیرت بھڑکانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اسی قسم کی التجائیں کی تھیں کہ اے خدا! آج اس بدر کے میدان میں اگر تو نے ان مٹھی بھر عبادت کرنے والوں کو جو میرے ساتھی اور میرے عاشق ہیں ان کو مرنے دیا تو لن تعبد في الارض ابداً اے میرے آقا! ان کے بعد پھر اور کوئی تیری کبھی عبادت نہیں کرے گا۔ پس آج توحید کی عزت اور عظمت کا سوال ہے اور احمدی اس بات میں سینہ سپر ہیں۔ اور کامل یقین کے ساتھ میں آپ کو بتاتا بات ہوں کہ ساری دنیا کے احمدی ایک صف کے طور پر، ایک بدن کے عضو کی طرح ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہوئے توحید کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے آج بھی تیار ہیں ۔ کل بھی تیار رہیں گے اور آئندہ بھی ہمیشہ تیار رہیں گے۔ آپ کو یاد ہوگا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی فرمایا کرتے تھے کہ اگلی صدی توحید کی عظمت اور قیام اور نافذ کرنے کی صدی ہے اور یہ بالکل درست ہے تو حید کو جو خطرے آج لاحق ہوئے ہیں ، در پیش ہیں یہ ہمیں تیار کرنے کے لئے درپیش ہیں، ہمیں بتانے کے لئے کہ تم کتنی بڑی عظیم ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور کھڑے کئے گئے ہو۔ جو جنگی مقاصد ہیں اور نفسیاتی عوامل اس کے پیچھے ہیں ان کا تاریخ سے بھی بڑا گہرا تعلق ہے چونکہ میں چاہتا ہوں کہ آئندہ خطبے میں یہ بات ختم کر دوں اس لئے آج کا خطبہ تھوڑا سا لمبا کرنا پڑے گا ورنہ پھر یہ چوتھے خطبے تک بات چلی جائے گی ۔ ایک پس منظر اس موجودہ لڑائی کا یا اسرائیل کے قیام کا ایسا تاریخی پس منظر ہے جس کا تعلق مسلمانوں اور عیسائیوں کی تاریخی جنگوں سے ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ صلیبی جنگیں جو 1095ء کے لگ بھگ شروع ہوئیں اور 1190ء یا 1191ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے اس کے بعد پھر یہ چھڑا نہیں سکے ۔ یہ تقریبا دو سو سال تک جنگیں اسی طرح ہوتی رہی ہیں ان جنگوں میں مسلمانوں نے پہل نہیں کی بلکہ یورپ کی قوموں نے آٹھ مرتبہ تمام طاقتوں نے مل مل کر عرب مسلمانوں پر حملے کئے ہیں، کئی دفعہ ان کے پلے بھاری ہوتے رہے کئی دفعہ شکست کھاتے رہے لیکن بالآخر مسلمان فلسطین کو ان کے ہاتھوں سے بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔ اور وہ زخم آج تک ان