خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1002
خطبات طاہر جلد ۱۰ 1002 خطبه جمعه ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء نہیں ہوں گی ۔ پس اگر یہ ہو تو میرے ذہن میں یہ نقشہ ہے کہ ایک وسیع جامعہ بنایا جائے جس کا کام صرف اعلیٰ درجہ کے مولوی فاضل پیدا کرنا یا مولوی فاضل کے معیار سے بلند مبلغ پیدا کرنا نہ ہو بلکہ وقف جدید کے لئے بھی وہی کام کرے گویا شروع کے دو یا تین سال جتنی دیر میں ہم سمجھتے ہیں کہ وقف جدید کے مبلغ اس حد تک تیار ہو سکتے ہیں کہ وہ حو صلے اور اعتماد کے ساتھ میدان عمل میں جا کر خدمت بجالا سکیں اسوقت تک ان سب کی کلاسیں اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں۔ بعد میں جو مزید ماہر علماء تیار کرنے ہوں وہ تین یا چار سال کے لئے مزید اس جامعہ میں ٹھہر کر اپنی آخری ڈگری حاصل کر سکتے ہیں ۔ پھر ان میں سے جو خلصین فوری طور پر اپنے آپ کو میدان عمل کیلئے پیش کریں اسی جامعہ میں کچھ نہ کچھ ابتدائی تربیت کیلئے ان کو چند مہینے روکنا ہوگا اور خدا کے فضل سے اسی جامعہ میں اس کا بھی بہت عمدہ انتظام ہو سکتا ہے۔ تو تین قسم کے معلمین اور مبلغین یہ جامعہ تیار کریگا۔ ایک وہ مخلصین جو فوری طور پر اپنے آپ کو میدان عمل میں پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں اسمیں نہ کوئی عمر کی شرط ہو گی نہ کوئی تعلیم کی شرط ہوگی ، تقویٰ اور خلوص اور قربانی کا مادہ، یہ دیکھے جائینگے ۔ ابتدائی طور پر ان کو نظام جماعت سمجھانے کیلئے تبلیغ کے میدان میں حکمتوں کے معاملات سمجھانے کیلئے اور عمومی طور پر ان علاقوں کے متعلق کچھ معلومات بہم پہنچانے کے لئے جن میں ان کو بھجوانا مقصود ہو ۔ پھر اسلام کی کم از کم وہ تعلیم عمدگی کے ساتھ ان کے ذہن نشین اور دلنشین کرنے کی خاطر جس تعلیم کے بغیر کوئی مسلمان روز مرہ کی زندگی میں اپنے مسلمان ہونے کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ وہ بھی ان کو نا سکھانی ہوگی مثلاً نماز ہے، اگر کوئی بہت ہی مخلص آدمی اپنے آپ کو پیش کرے کہ میں حاضر ہوں ۔ مجھے میدان عمل میں جھونک دیا جائے لیکن نماز صحیح نہ جانتا ہو، اس کا تلفظ درست نہ ہو ، اس کا لازما ۔ ترجمہ اسے نہ آتا ہو، نماز کے متعلق اس کے ارد گرد جو مسائل گھومتے ہیں ان سے نا آشنا ہو ۔ وضو کے مسائل کا نہ پتہ ہو۔ دیگر آداب صلوۃ سے نا واقف ہو تو یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ یہ متقی ہے نا متقی کیونکہ تقویٰ کی کچھ ظاہری علامتیں ہونی بھی تو ضروری ہیں ۔ تقویٰ اگر کسی دل میں ہو تو وہ نماز سے محبت کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک سچا متقی ہو اور نماز کیلئے اس کے دل میں جستجو اور تڑپ نہ ہو۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ اسی قادیان کی بستی میں جب بچپن میں ہم یہاں گلیوں میں گھوما کرتے