خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد اول 67 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدہ:(۱۷) کہ محمد مصطفیٰ صل اللہ نے انذار اور تب تبشیر کا حق خوب خوب ادا کیا ۔ ایسا کہ اپنے سارے متبعین کو انذار اور تبشیر کے سانچوں میں ڈھال دیاوہ خدا کی محبت اور طمع میں یعنی بشارتوں کے نتیجہ میں راتوں کو اٹھ کر اس کے حضور حاضر ہونے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ اس کے زیادہ سے زیادہ فضلوں کے وارث بن سکیں اور اس خوف سے بھی اٹھتے ہیں کہ مبادا ہم اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں ان نعمتوں سے محروم رہ جائیں جو نعمتیں حضرت محمد مصطفیٰ" کے ذریعہ ہمیں عطا کی جا رہی ہیں کہا کرتے ہیں وہ راتوں کو اٹھ کر ید عُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًاءه خدا کو خوف سے بھی یاد کرتے ہیں اور طمع کے ساتھ بھی یاد کرتے ہیں وَ مِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ اور ان کے انفاق فی سبیل اللہ کا ایک سلسلہ جاری ہے ۔ ہم دیتے چلے جاتے ہیں اور یہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ہے وہ کوثر جو حضرت محمد مصطفیٰ اللہ نے بہائی اور اس کوثر کی زندگی کی ضمانت کے طور پر ہم پیدا کئے گئے ہیں ۔ ہم ہیں جن کے سپر د اللہ تعالیٰ نے اس کوثر سے جام بھر بھر کے ساری دنیا کو پلانے کا کام کیا ہے۔ اس کوثر کو اپنی قربانیوں سے بھر دیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ کوثر ایک سب سے پاک رسول کی قربانیوں کا ایک تالاب ہے اس میں گندا قطرہ نہیں جائے گا۔ نفس کی ملونی کا ایک ذرہ بھی اس میں داخل نہ کیا جائے گا۔ ورنہ آپ قربانی کرنے والوں کے گروہ میں نہیں لکھے جائیں گے بلکہ قربانی کرنے والوں کی قربانیوں کو گندا کرنے والوں کے گروہ میں لکھے جائیں گے۔ اس خوف کے ساتھ اپنے نفوس کا محاسبہ کرتے رہیں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مالی نظام کو ہر پہلو سے پاک اور صاف رکھے اور ہمارے نفس کی ملونیوں سے اس کو بچائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر جماعت کا ایک طبقہ اس معاملہ میں تقوی شعاری اختیار کرے اور غیر اللہ کا خوف نہ کھائے ۔ شرک نہ کرے اور اس بات پر قائم ہو جائے کہ خدا کی راہ میں میں جو بھی دوں گا۔ سچائی کے ساتھ دوں گا ۔ تو آج شرح بڑھائے بغیر بھی ہمارا چندہ دو گنا بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ السُّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ کی جو جماعت اللہ تعالیٰ نے عطافرمائی ہے۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو اور صلى علی سام بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ جماعت من حيث الجماعت ساری جماعت کا خلاصہ ہوتی ہے اور عددی لحاظ سے یہ کم ہوتی ہے۔ اس سے میں یہ اندازہ کرتا ہوں کہ ایک بڑی اکثریت ایسی ہوگی ، جو ابھی تک مالی امور میں تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پوری نہیں اتری ۔ اگر وہ اکثریت بھی تقوی کے معیار پر