خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 363

خطبات طاہر جلد اول 363 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۸۲ء والا سپہ سالار آپ نے دنیا کے پردے پر کہیں اور نہیں دیکھا ہوگا ۔ یہ اعلان فرمانے کے بعد آپ نے صحابہ کو بلایا اور بلانے کا انداز یہ تھا کہ اعلان کروایا اے انصار ! خدا کا رسول تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے اور اے مہاجرین ! خدا کا رسول تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اس وقت حالت یہ تھی کہ پاؤں اس شد سے اُکھڑ چکے تھے کہ کوشش کے باوجود بھی سواریاں نہیں مڑتی تھیں ۔ جن جن کے کانوں میں یہ آواز پہنچی اگر وہ پیدل تھے تو وہ اسی طرح پلٹ آئے اور جو سوار تھے ان کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے پوری قوت کے ساتھ سواریوں کو موڑنے کی کوشش کی ۔ ان سواریوں کی گردنیں ان کی چھاتیوں کے ساتھ لگ گئیں لیکن وہ مڑنے کا نام نہیں لیتی تھیں ۔ تب انہوں نے تلواروں سے اپنی سوار پول ریوں کی گردنیں کاٹیں اور لبیک یا رسول اللہ لبیک کہتے ہوئے پا پیادہ حضوراکرم علی کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ کیوں گردنیں کاٹیں؟ اپنی گردنیں بچانے کے لئے نہیں ۔ بلکہ اس لئے سواریوں کی گردنیں کاٹیں کہ خودان کے اپنے تن سر سے جدا کئے جائیں۔ صلى عروسه انے ان لوگوں سے کہا کہ یہ وہ قوم تھی جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کو عطا ہوئی۔ اور ہم بھ میں صلى الله بھی تو اسی آقا کے غلام ہیں اور اسی کے تربیت یافتہ ہیں۔ اس لئے تم کتنی بدظنی سے کام لیتے ہو، یہ کہتے ہو کہ صلى الله جب میں احمدی بچیوں کو آنحضور ﷺ کی عزت اور ناموس کے نام پر بلاؤں گا تو وہ نہیں آئیں گی۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا اور یہ بات جو تم کہتے ہو، ناممکن ہے۔ تم دیکھو گے کہ وہ ساری کی ساری انشاء اللہ ادھر پلٹیں گی اور خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹیوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ مجھے ایسے ایسے درد ناک خط ملے کہ میں وہ پڑھتا تھا اور میرا دل حمد سے بھر جاتا تھا۔ اور مومن کی حمد خود بخود دعا میں تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ ان بیٹیوں کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلتی تھیں کہ خدا تعالیٰ نے فضل فرمایا اور انہوں نے اپنے عہد کو سچا ثابت کر دکھایا۔ پس یہ وہ جماعت ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو عطا ہوئی ہے۔ کوئی ہے دنیا میں طاقت جو خدا کی ایسی جماعت کو مٹا سکے۔ جس میں اسوۂ محمدی زندہ ہو، اس کو دنیا کی کون سی طاقت مٹاسکتی ہے ۔ آپ کی ساری ضمانت ، آپ کی ساری حفاظت اسوۂ محمدی میں مضمر ہے اس اسوہ کو حرز جان بنا لیں ۔ اس کو اپنی رگ وپے میں رچا لیں ۔ پھر آپ ہمیشہ کی زندگی پا جائیں گے ۔ ایسی زندگی پائیں گے جس کے اوپر موت کو کوئی دخل نہیں رہتا۔