خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 293
خطبات طاہر جلد اول میسر آ جائے گی۔ حضرت خلیفه استیح الاول رضی ا المسيح 293 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن دنوں کے عنہ جن دنوں کشمیر میں تھے وہ اکثر سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ مہاراجہ کشمیر کے ہاں ملازم تھے۔ سیر کے دوران وہ بسا اوقات ایک ایسے فقیر کو دیکھا کرتے تھے جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور وہ اکثر بے چین اور بے قرار نظر آیا کرتا تھا۔ ایک دن جب وہ سیر کو نکلے تو اس فقیر کو دیکھا وہ بہت ہی خوش ہے اور خوشی سے چھلانگیں لگا رہا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا سا ئیں ! تمہیں آج کیا میسر آ گیا ہے تم اتنے خوش ہو۔ اس نے کہا جسے سب کچھل جائے وہ خوش کیوں نہ ہو۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول نے پوچھا۔ تم : المسيح وچھا۔ تم جیسے کل ننگے تھے، آج بھی ویسے ہی ننگے ہو ۔ جیسی لنگوٹی کل تمہارے پاس تھی ویسی ہی آج بھی ہے۔ مجھے تو کوئی زائد چیز نظر نہیں آ رہی جو تمہیں مل گئی ہو۔ اس نے کہا ۔ آپ نہیں جانتے ۔ آج میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میری مراد کوئی نہیں رہی ۔ پنجابی میں اس نے کہا ” جدی مراد کوئی نہ ہووے اودی پوریاں ہی پوریاں ، یعنی جب دل میں تمنا ہی باقی نہ رہے تو پھر پوری ہی پوری ہے۔ پھر انسان بہت تسکین حاصل کر لیتا ہے۔ غالب نے بھی اس فلسفہ کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیا۔ گر تجھ کو ہے یقین اجابت، دعا نہ مانگ وو یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ (دیوان غالب) کہ اگر تمہیں یقین ہو جائے کہ قبولیت کا یہ خاص لمحہ ہے تو پھر کوئی دعا نہ مانگو سوائے اس دعا کے کہ اے خدا! ایسا دل عطا کر کہ جس میں کوئی مدعا باقی نہ رہے۔ یہ دل تمہیں مل جائے تو تسکین ہی تسکین ہے۔ پس ایک یہ بھی فلسفہ ہے۔ جس نے بہت سے انسانوں کو ایک ایسے سکون کی تلاش میں مبتلا کر دیا اور آج بھی کر رکھا ہے کہ جو سکون ہمیشہ ان سے گریزاں رہتا ہے کیونکہ ایسا دل جو بے مدعا ہو اس میں سکون کا پیدا ہونا ممکن نہیں ۔ سوسائٹی سے ایسا کامل گریز کہ جس کے نتیجہ میں کوئی تمنا باقی نہ رہے اسی کا دوسرا نام موت ہے اور موت کے سوا یہ مقصد انسان کو حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اگر ایسا دل ہو جس میں مدعا نہ رہے۔ سوسائٹی بے قرار ہو اور وہ دل اس کی بے چینی محسوس نہ کرے تو ایسے دل کے ہونے سے نہ ہونا بہتر ہے کیونکہ جو انسان سوسائٹی سے اس طرح کٹ جائے کہ اس کے دکھ اور غم میں