خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 267

خطبات طاہر جلد اول 267 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ء تعلیم دی ہو یہ بد قسمتی ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک اسلام کی طرف اسلام کے ماننے والوں میں سے بعض نے یہ تعلیم منسوب کر دی کہ بعض اوقات جھوٹ واجب ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رشید یہ از حافظ رشید احمد گنگوہی ص ) لنگوہی ص (545) حالانکہ یہ ایک ایسی کر یہہ المنظر چیز ہے کہ دنیا کے تما رہے کہ دنیا کے تمام مذاہب کا آپ جائزہ لیں ان کی بگڑی ہوئی شکلوں میں بھی جھوٹ کی تعلیم نہیں ملتی ۔ گو بعض حصوں میں ظلم کی تعلیم ملتی ہے لیکن بگڑی ہوئی صورت میں ۔ لیکن ان کے ماخذ کا مطالعہ کریں تو وہاں ظلم کی تعلیم بھی نہیں ملتی ۔ عدل ملتا ہے، انصاف ملتا ہے، اللہ تعالیٰ کی محبت ملتی ہے، بنی نوع انسان سے پیار ملتا ہے۔ یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو تمام مذاہب کا سرمایہ ہیں لیکن ان کے ماننے والوں میں کہاں پائی جاتی ہے۔ اگر آج ان نیک باتوں پر ہی دنیا کے مذاہب کے پیرو کار عمل کر لیں تو چھوٹی جنت ہی سہی مگر دنیا جنت ضرور بن جائیگی ۔ ویسی عظیم الشان جنت نہ سہی جو حضرت محمد مصطفے ﷺ کی تعلیم سے پیدا ہوتی ہے کچھ نہ کچھ جنت کے آثار ضرور ظاہر ہوں گے۔ اپنے اپنے دائرہ میں چھوٹی چھوٹی جنتیں ضرور بن جائیں گی ۔ اسی لئے قرآن کریم ان قوموں کو جن کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ، مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تم سچے ہو اور خلوص رکھتے ہو تو اس تعلیم پر تو عمل کرو جو تمہیں دی گئی تھی اگر وہ محض ناکارہ تعلیم ہوتی تو قرآن کریم یہ حکم کبھی نہ دیتا۔ علي پس سا ری دنیا میں تعلیم موجود ہے ۔ آج بھی وہی قرآن کریم ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلب صافی پر نازل ہوا تھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تو تعلیم تو موجود ہے اس کی حکمتیں بھی موجود ہیں۔ احادیث میں موجود ہیں ۔ قرآن کریم کی بعض آیات خود بعض دوسری آیات کی حکمتیں بیان کرتی ہیں۔ لیکن معاشرہ کا کیا حال ہے۔ اس کا انگ انگ دکھ رہا ہے ۔ یہ ایسا بگڑا ہے کہ اس کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ وجو د نہیں ہے جو يَضَعُ عَنْهُمْ أَصْرَهُمْ وَالْأَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ کی رو سے خود محنت کر کے لوگوں کے بوجھ اتارتا تھا اور ان طوقوں سے نجات بخشا تھا جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے۔ پس جماعت احمدیہ نے اگر مر بی بننے کا حق ادا کرنا ہے تو اسے یہ مزید محنت کرنی پڑے گی اپنے اعمال کو پاک کرتے ہوئے ، دعاؤں سے مدد مانگتے ہوئے وہ قوت اپنی ذات میں پیدا کرنی پڑے گی جو قوت بدیوں کو دور کیا کرتی ہے محض تعلیم دور نہیں کیا کرتی۔