خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 265

خطبات طاہر جلد اول 265 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ء نقشہ کھینچا گیا ہے کہ حضور علیہ کی مساعی محض تعلیم کی حد تک نہیں کہ یہ کرو اور یہ نا یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ جہاں! جہاں بوجھ اترنے کا سوال ہے یعنی وہ گندی عادتیں ، وہ بدیاں جو انسان کو چمٹ جاتی ہیں ، وہ محض تعلیم - صلى الله سے دور نہیں ہوا کرتیں حضرت محمد مصطفے ﷺ نے نے خود خود وہ وہ عادات عادات دور دور کروائی کہ ہیں۔ کس طرح دور کروائیں اس مضمون کو قرآن کریم کئی دوسری جگہ بیان فرما رہا ہے۔ دعاؤں کے ذریعہ، اپنے پاک نمونہ کے ذریعہ، اپنی قوت قدسیہ کے ذریعہ جو دعا اور پاک نمونہ سے الگ ایک تیسری چیز ہے۔ یہ ایک ایسی روحانی قوت ہے جو نیک بندہ کو عطا کی جاتی ہے اور براہ راست اصلاح کرتی ہے جیسا کہ فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ اليته وَ يُزَكِّيهِمْ (الجمع (۳) یعنی تعلیم و حکمت کتاب تو بعد کی باتیں ہیں یہ خدا تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ان کا تزکیۂ نفس شروع کر دیتا ہے تو یہاں ضمیر يَضَعُ عَنْهُمْ اصْرَهُمْ کی اُن لوگوں کی طرف نہیں پھیری جن پر بوجھ پڑے ہوئے ہیں کہ وہ آنحضرت علی کی تعلیم صلا لوس سے مستفید ہوکر اپنے بوجھ اتار پھینکتے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا گیا۔ فرمایا محد مصطفے ﷺ نیکیوں اور بدیوں کی راہوں کو خوب کھولنے کے بعد پھر اپنے ماننے والوں کی مدد فرماتے ہیں اور اپنی طرف سے اپنی کوشش اور جدو جہد سے ان کو پاک کرتے ہیں۔ اس موقع پر بجلی کی رو بند ہو جانے پر جنریٹر چلانے میں تاخیر ہوگئی حضور نے محترم ناظر صاحب اصلاح وارشاد کو یہ ہدایت فرمائی کہ نیا بیری سسٹم فوری جاری کریں اور بجلی کی روبند ہو جانے پر یہ متبادل انتظام فوری طور پر عمل میں آجایا کرے تا کہ جماعت کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ ناقل ) پر يَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمُ میں جو نقشہ کھینچا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کتاب کے بعد اور اس کی حکمتیں بیان فرمانے کے بعد آنحضور علی اپنی قوت قدسیہ کے ساتھ اور ذاتی مساعی کے نتیجہ میں قوم کو ان مصیبتوں سے نجات بخش رہے ہیں جن مصیبتوں میں وہ قوم خودصدیوں سے مبتلا ہے ، اور یہ پہلو بہت ہی عظیم الشان حکمت کا پہلو ہے جو تمام مربیان کے لئے اختیار کرنا ضروری ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی اصلاح کے لئے مقرر کئے گئے ہیں تو ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ دنیا کو صرف اس کی نیکیوں اور اس کی بدیوں کی راہوں سے آگاہ کر دیں اور پھر بے نیاز ہو کر بیٹھ جائیں کیونکہ دنیا کو نیکیوں اور بدیوں کی راہیں معلوم بھی ہوں تو وہ نہ بدیوں کی راہوں سے بچ سکتی ہے