خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد اول 243 خطبه جمعه ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۲ء اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں لیکن ان کو بھی میں تحریک کرتا ہوں کہ یہ انجمنیں اور تنظیمیں اپنی توفیق یہ کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور اس مد میں وقف کریں۔ جہاں تک دیگر احمدیوں کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا میری پہلی توجہ اس طرف ہے کہ وہ اپنے لازمی چندے درست کریں جو نادہند ہیں وہ دہند بنیں ۔ جو بقایا دار ہیں وہ بقائے صاف کریں۔ جو شرح کے مطابق نہیں دیتے وہ شرح کے مطابق دینا شروع کریں۔ اللہ تعالیٰ سے سچائی کا معاملہ اختیار کریں۔ اس لئے جب تک یہ مہلت دی ہے کوئی عام تحریک میں جماعت میں نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اس تحریک کے لئے چونکہ انتظار میرے بس میں نہیں رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اتنے زور سے یہ تحریک میرے دل میں ڈالی کہ میں نے مجبوراً اس موقعہ پر اس کا اعلان کر دیا۔ اس لئے اس شرط کے ساتھ کہ جماعت کے دوسرے احباب کو اس میں شمولیت کا موقعہ دیا جائے گا کہ اول تو وہ توازن کو بگڑ نے نہ دیں۔ دل تو چاہے گا کہ پہلی تحریک ہے ، سب کچھ اس راہ میں پیش کر دیں۔ یہ ایک مومن کے قلب کی طبعی حالت ہوتی ہے لیکن یاد رکھیں اور بہت ہی تحریکات اللہ کی راہ میں آنے والی ہیں اس لئے وہ ان کے لئے بھی اپنے ذہن میں گنجائش رکھیں اور توازن برقرار رکھتے ہوئے جو کچھ پیش کرنے کی خدا سے توفیق پائیں اس پر راضی ہوں ۔ دل تو چاہے گا کہ اور بھی زیادہ پیش کریں۔ لیکن اپنے آپ کو سنبھال کر پیش کریں اور دوسرے یہ کہ صرف وہ پیش کریں جو خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر خود یہ سمجھتے ہیں، یہ فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے کہ وہ اپنے لازمی چندوں میں پورے ہیں ۔ شرح کے مطابق دیتے ہیں حصہ وصیت بھی اور چندہ عام بھی جن کو ابھی تک یہ توفیق نہیں ملی ، یہ حوصلہ عطا نہیں ہوا وہ ہرگز ایک آنہ بھی اس تحریک میں نہ دیں۔ اس شرط کے ساتھ یہ تحریک عام ہے۔ انشاء اللہ میں اس کے لئے ایک کمیٹی بنادوں گا جو ایسے معاملات پر غور کرے گی ۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہمارے بس میں نہیں ہے کہ سارے دکھ دور کرسکیں۔ جتنی مرضی خواہش ہو یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اس لئے کچھ نہ کچھ کریں گے اور باقی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں گے۔ اور امید رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمارے غربا کو مستغنی فرمادے گا۔