خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 195

خطبات طاہر جلد اول 195 خطبه جمعه ۸ را کتوبر ۱۹۸۲ء ہے کیونکہ بعض لوگ جب من جب مقامی عہدیداروں سے ناراض ہو جا ئیں تو وہ اس کے اور نظام کے درمیان تمیز وہ نہیں کر سکتے اور بعض لوگوں کو یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ براہ راست کو یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ براہ راست خلیفہ مسیح کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کر سکیں۔ چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جماعتی کمزوری ہے اور وہ پھر خلافت سے بھی ناطہ توڑ لیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا یہ لوگ خلیفہ المسیح اور احمدی لوگوں کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں جسکا انہیں کوئی حق نہیں۔ چنانچہ اگر یہ مسئلہ سر اٹھائے تو اسکا حل یہ ہے کہ آپ خلیفہ المسیح سے یا اس شعبہ سے براہ راست رابطہ کریں مثلاً اگر مالی معاملہ ہے تو وکیل المال کو تحریر کرنا چاہئے ۔ تبشیر کا مسئلہ ہو تو وکالت تبشیر سے رابطہ کریں۔ لیکن اگر اس پر آپ کو تسلی نہ ہو اور ہو بھی آپ کو جلدی تو کم از کم یہ تو کریں کہ آپ مجھے خلیفہ المسیح کی حیثیت میں لکھیں اور اسکی نقل امیر کو بھجوا دیں ۔ ورنہ عمومی طریق یہی ہے کہ آپ اپنی شکایات امیر یا متعلقہ عہدیدار کے توسط سے جو بھی وہ ہیں بھجوائیں اور بہتر یہ ہوگا کہ ایک نقل براہ راست بھجوا دیں۔ تو پھر بالکل کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ لیکن ایک بات میں واضح کر دوں کہ دنیا کے معاملات میں بھی اپیل نیچے سے اوپر کی طرف حرکت کرتی ہے۔ اوپر سے نیچے کی طرف نہیں ۔ وہ احمدی جو اپنی اپیل عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ غلطی کے موجب ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے لیے تباہی کا راستہ چنتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرنے کی بجائے مذہب سے بیگا نہ عوام الناس کے سامنے جاتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے نیچے کی طرف اترتے ہیں۔ چنانچہ اگر آپ اپنی شکایات غلط جگہ پیش کرتے ہیں تو آپ نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس یک طرفہ پراپیگنڈا کا دوسری پارٹی کو دفاع کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔ بعض اوقات انہیں اس بات کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ چنانچہ اول یہ کہ یک طرفہ پراپیگنڈا اسلام میں منع ہے ۔ خواہ وہ کسی امیر کے بارہ میں ہو، عہد یدار کے بارہ میں یا عام احمدی کے بارہ میں ۔ یہ بہت سختی سے منع ہے ۔ اور اگر نظام کے کسی نمائندے کے بارہ میں ہے تو پھر یہ دُگنا خطرناک ہے کیونکہ یہ احمدیوں کے اخلاص پر حملہ کرتا ہے اور اس پر برا اثر ڈالتا ہے اور وہ اس پراپیگنڈے کے زیر اثر سست ہو جاتے ہیں ۔ وہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ درست بھی ہوں تو انتقام لینا چاہتے ہیں۔ جماعت سے انتقام اور جماعت کی روح سے