خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد اول 14 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۲ء وعدے کرنے والے میری نگاہوں میں پھر گئے اور اس وقت مجھے خیال آیا کہ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کا مضمون ابھی جاری ہے۔ جب تک عمل میں یہ شہادت نہ ڈھلے اس وقت تک یہ مضمون کامل نہ ہوگا۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ ایمان کی بھی تو یہی تین منازل بیان کی گئی ہیں: زبان سے اقرار، دل سے گواہی اور عمل سے تصدیق ۔ تو وہ جو دل میں ایک کیڑا سا پیدا ہوا کہ میں نے گویا بڑا تیر مار لیا ہے وہ سب کیڑا کچلا گیا عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کے مضمون کے پاؤں تلے اور اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ پھر ہمیشہ مختلف مواقع پر مجھے عملاً یہ غور کرنے کا موقع ملا کہ عمل کی دنیا میں ان عہدوں کو سچا ثابت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ کامل اطاعت کے باوجود ایک خلیفہ وقت سے خیالات میں ، تصورات میں اختلاف ہو سکتے ہیں اور جائز ہے۔ اپنے خیالات پر تو بندے کا بس کوئی نہیں ۔ وہ درست ہوں یا غلط ، تقویٰ کا تقاضا ہے کہ جو ہیں ان سے انسان آگاہ ہو اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو ہرگز اس رنگ میں استعمال نہ ہونے دے جس سے سلسلے کے مفاد کو یا بیعت اطاعت کو کوئی گزند پہنچنے کا خدشہ ہو۔ اگر کوئی اس کے نتیجے میں اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اس اقرار کو یادرکھے اور اس تکلیف کو برداشت کرے، لیکن ہرگز اشارہ یا کنایہ اس کے منافی کوئی حرکت نہ کرے۔ تو چنانچہ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے متعلق میں مزید کچھ نہیں کہوں گا۔ لیکن آپ میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں یہ تجارب رکھتا ہے۔ بچے ماں باپ کے متعلق یہ تجربہ رکھتے ہیں کہ خوشی کے ماحول میں جب انعام مل رہے ہوں ان کی طرف سے ، جب پیار کا اظہار ہو رہا ہو تو بڑی گہری وفا کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ پیار کے جذبے خوب پھیل جاتے ہیں ، ساری زندگی پر محیط ہو جاتے ہیں ۔ لیکن جب کوئی ناخوشی کی بات دیکھیں، جب کوئی تکلیف کا پہلو سامنے آئے تو آہستہ آہستہ وہ محبت سمٹنے لگتی ہے اور بعض اوقات اگر بد بختی ہو اولاد کی تو بغاوت پر بھی آمادہ ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم نے فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُف (نی اسرائل : ۲۳) کا مضمون بیان کیا ، اسی دوران مجھ پر اس کی بھی حقیقت کھلی کہ ماں باپ سے اگر ایسی بات سرزد ہو سکتی ہے کہ اولاد کو حکم ہے کہ اف نہیں کہنا تو خلیفہ وقت کا حق تو اس سے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے اس موقع پر بھی اف زبان پر لائے بغیر اگر صبر اور اطاعت اور وفا کا نمونہ دکھاؤ گے تو خدا کے ہاں صرف یہی مقبول ہوگا۔ میں نہیں جانتا کہ میں اس حق کو ادا کر سکایا نہیں