خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 173
خطبات طاہر جلد اول 173 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء ان دوسری آیات کی طرف مبذول کروائی جائے تو اس قسم کا اعتراض ختم ہو جائے ۔ وہ دوسری آیت جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا ۔ کرانا چاہتا ہوں ۔ وہ اس سورۃ کے چند سورتوں بعد سورۃ جن کی ہے۔ قرآن کریم اس آیت میں فرماتا ہے۔ وَ أَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْتُهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدً اوَشُهَبَان وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا (من :) قرآن نے یہ آیت لفظ جنات کے تعلق میں بیان کی ہے۔ اور لفظ جن ایک وسیع لفظ ہے اس کی توضیح کیسے کی جائے؟ کیا قرآن کریم کی اس سے مراد ایک بہت ہی عجیب و غریب اور خاص قسم کی مخلوق سے ہے جو انسانی آنکھ کے لئے غیر مرئی ہے اور جسے انسانی معاملات پر کبھی کبھار قدرت حاصل ہو جاتی ہے؟ یا اس سے کچھ اور مراد ہے مگر میں اس سوال کو فی الحال چھوڑتا ہوں کیونکہ اس سے ہم ایک اور سمت میں چل پڑیں گے۔ میں خود کو اس پہلی آیت کے معانی تک ہی محدود رکھوں گا جو اس دوسری آیت سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس دوسری آیت میں اللہ تعالی ہمیں بتاتا ہے کہ آنحضور ﷺ کی بعثت صلى الله علی کے بعد جنوں کے ایک وفد نے آپ سے ملاقات کی اور انہوں نے آپ نے آپ کو قبول کر کے حضور ع کے ہاتھ پر بیعت کی اور جب وہ واپس گئے تو آپس میں گفتگو کرنے لگے اور یہی وہ گفتگو ہے جس کا یہاں حوالہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے جب وہ واپس گئے تو کہا کہ وَ أَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْتُهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدً اوَشُهَبَان وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا (الجن (٥٠) اور یقیناً ہم نے آسمان کو ٹولا تو اسے کڑے محافظوں اور شہاب ثاقب سے بھرا ہوا پایا۔ اور یقیناً ہم سننے کی خاطر اس کی رصد گاہوں پر بیٹھے رہتے تھے۔ پس اب جو سننے کی کوشش کرتا ہے وہ ایک لپکتے ہوئے ستارے کو اپنی گھات میں پاتا ہے۔ کیا وجہ ہوئی کہ فطرت کا نقشہ بظاہر مکمل طور پر بدل گیا۔ صرف ایک تبدیلی جو آئی وہ