خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 119

خطبات طاہر جلد اول 119 خطبه جمعه ۲۰ را گست ۱۹۸۲ء کام کے لئے چھوٹے چھوٹے اہل کاروں مثلاً پٹواریوں اور تھانیداروں کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ادنی ادنی چیزوں کے لئے لوگ اپنے دشمن کو بھی باپ بنا لیتے ہیں لیکن آحكَمِ الْحَكِمِينَ خدا کے حضور شرمانے لگ جاتے ہیں یہ انسانی کمزوری اور محض جھوٹا تصور ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اسی کا نام شرک ہے۔ اسی سے شرک کے مختلف پہلو آغاز پذیر ہوتے ہیں۔ میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے اور ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ عبادت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کوئی ذلت نہیں آتی بلکہ اس سے ہمیشہ انسانی وقار بڑھتا ہے۔ میں نے ایک واقعہ پہلے لکھا بھی ہے مجھے وہ لمحہ بہت پیارا لگتا ہے جو ایک مرتبہ لندن میں New Year's Day ( نیوائیرز ڈے کے موقع پر پیش آیا یعنی اگلے دن نیا سال چڑھنے والا تھا اور عید کا سماں تھا۔ رات کے بارہ بجے سارے لوگ ٹرائفا لگر سکوائر میں اکٹھے ہو کر دنیا جہاں کی بے حیائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کیونکہ جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی تہذیبی روک نہیں ۔ کوئی مذہبی روک نہیں ۔ ہر قسم کی آزادی ہے۔ اس وقت اتفاق سے وہ رات مجھے یوسٹن اسٹیشن پر آئی ۔ مجھے خیال آیا جیسا کہ ہر احمدی کرتا ہے اس میں میرا کوئی خاص الگ مقام نہیں تھا۔ اکثر احمدی اللہ کے فضل سے ہر سال کا نیا دن اس طرح شروع کرتے ہیں کہ رات کے بارہ بجے عبادت کرتے ہیں۔ مجھے بھی موقع ملا میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا۔ اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی شخص میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ہے اور پھر نماز ابھی میں نے ختم نہیں کی تھی کہ مجھے سسکیوں کی آواز آئی ۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا انگریز ہے جو بچوں کی طرح بلک بلک کر رورہا تھا۔ میں گھبرا گیا میں نے کہا پتہ نہیں یہ سمجھا ہے میں پاگل ہو گیا ہوں اس لئے شائد بے چارہ میری ہمدردی میں رو رہا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے تو اس نے کہا مجھے کچھ نہیں ہوا میری قوم کو کچھ ہو گیا ہے۔ ساری قوم اس وقت نئے سال کی خوشی میں بے حیائی میں مصروف ہے اور ایک آدمی ایسا ہے جو اپنے رب کو یاد کر ہا ہے اس چیز نے اور اس مواز نے نے میرے دل پر اس قدر اثر کیا ہے کہ میں برداشت God bless you۔ God bless you نہیں کر سکا ۔ چنانچہ وہ بار بار کہتا تھا۔