خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 112

خطبات طاہر جلد اول 112 خطبه جمعه ۲۰ را گست ۱۹۸۲ء الله یہ عبادت گزار بندے اس میدان میں ہلاک کر دیے گئے تو پھر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ یہ کوئی دھمکی کا رنگ اس لئے نہیں تھا کہ حضرت محمد مصطفی ملا تو اللہ کے عشق و محبت میں فنا ہو کر مجسم عجز وانکسار بن گئے تھے۔ یہ دراصل اظہار غم تھا، اظہار فکر تھا ، بے چینی کی ایک آواز تھی ، درد و کرب میں ڈوبی ہوئی ایک چیخ تھی کہ اے میرے رب ! میں نے تو ساری عمر کی محنت کے ساتھ تیرے عبادت گزار بندے تیار کئے تھے۔ اگر آج مشرکوں کے ہاتھوں یہ عبادت کرنے والے بھی ہلاک ہو گئے تو میرے بعد اور کون ہوگا جو تیرے عبادت گزار بندے پیدا کر سکے ۔ مجھ سے بڑھ کر عبادت کا حق اور کون ادا کر سکتا ہے۔ میں نے خودان کو دین سکھایا۔ ان کو عبادت کے اسلوب بتائے ۔ ان کو راتوں کو جاگنے کی لذت بخشی ۔ ان کو جاگتے ہوئے اور سوتے ہوئے اور لیٹتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے اور بیٹھتے ہوئے ہمیشہ یا دالہی میں محو ر ہنے کی تعلیم دی ۔ پس مجھے یہ غم نہیں ہے کہ یہ لوگ مارے جائیں گے ۔ مجھے تو یہ غم ہے کہ اے میرے آقا! اگر یہ لوگ مارے گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا ۔ کون لوگ ہوں گے جو تیری عبادت کے لئے اس دنیا میں آئیں گے۔ یہ ایک ایسی دعا تھی جس نے وہیں اس خیمہ میں اس جنگ کا فیصلہ کر دیا۔ مؤرخ حیران ہوتے صلى الله ہیں اور حیران ہوتے رہیں گے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ بدر کے میدان میں ۳۱۳ بوڑھے اور بچے، کمزور اور نحیف لوگ عرب کے چوٹی کے لڑنے والوں پر فتح پاگئے ۔ جب کہ آنحضرت ﷺ نے اس نظارہ کو دیکھ کر یہ فرمایا تھا کہ مکہ نے اپنے جگر گوشے اٹھا کر اس میدان میں ڈال دیے ۔ (تاریخ طبری جلد 2 ص 28) وہ ایسے چوٹی کے لڑنے والے تھے جن پر سارا عرب فخر کیا کرتا تھا۔ ان کی بہادریوں کے گیت گائے جاتے تھے۔ ان کے مقابل پر جنگ بدر کے میدان میں مسلمانوں کے لشکر میں ایسے بھی تھے جو بوڑھے تھے ۔ تھے۔ بعض لنگڑے تھے۔ بعض ایسے تھے جن کے پاس تن ڈھانپنے کے پورے کپڑے نہیں تھے۔ ان میں بعض شہید ہوئے تو ان کے کپڑے سے اوپر کا تن ڈھانکا جاتا تھا تو نیچے کا تن ننگا ہو جاتا تھا۔ نیچے کا ڈھانکا جاتا تو اوپر کا تن ننگا ہو جاتا تھا۔ ( صحیح بخاری کتاب الرقاق باب فضل الفقر ) لیکن خدا کے ان عبادت گزار بندوں کو جب جہاد کے لئے بلایا گیا تو محض خدا کی عبادت کی خاطر اور اس کے نام کی بلندی کے لئے وہ میدان جنگ میں حاضر حاضر ہو ہو گئے گئے ۔ ۔ یہ یہ وہ وہ لوگ تھے جن کے لئے آنحضور علی دعا کی تھی اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكُ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا ان خوش قسمت لوگوں میں بعض بچے بھی تھے ایسے بچے جو شوق شہادت میں بڑا بنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایڑیاں اٹھا اٹھا عروسه۔ نے