خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد اول 100 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء پھیل جائے گا۔ غرض خدا تعالیٰ نے مشرکین کا ذکر فرما کر اس مضمون کو مکمل کر دیا اور یہ بتا دیا کہ اے رسول ! اس کی ذمہ داری تجھ پر نہیں ہے تجھ پر نہیں ہے۔ تیرا کام تو اندھیروں سے نور کی طرف نکالنا ہے۔ تو نے اپنا یہ کام مکمل کر دیا۔ اب تو ان کا نگران نہیں ہے۔ پس خدا کے ذکر سے اچانک تصریف آیات ہوئی اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کلام شروع کر دیا کہ میں تم پر حفیظ نہیں ہوں ۔ ایک دفعہ ایک یہودی عورت کا بچہ قریب المرگ تھا۔ اس عورت کو یہ علم تھا کہ آنحضرت صلی اللہ عروسه کو اس بچہ سے پیار تھا۔ لوگ کہتے ہیں یہودیوں میں تبلیغ کیوں کرتے ہو۔ یہودیوں تک اسلام کا صلى الله پیغام کیوں پہنچاتے ہو۔ جن یہودیوں نے آنحضرت علی سے دشمنی کی ان سے زیادہ مغضوب تو دنیا میں کوئی یہودی نہیں ہو سکتا۔ ان سے زیادہ سخت دل اور شقی القلب تو کوئی یہودی نہیں ہو سکتا۔ اس کے صلى الله باوجود اس یہودی عورت نے آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں جب یہ پیغام بھیجا کہ میرا بچہ قریب المرگ ہے۔ آپ کو اس سے پیار تھا اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسے بستر مرگ پر دیکھ لیں تو یہاں آ جائیں اس کو دیکھ لیں ۔ اس کے دل میں یہ تمنا ہو گی کہ میرے بچے کا دل ٹھنڈا ہو جائے۔ آنحضرت ا مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ پیغام سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے اس یہودی عورت کے گھر تشریف لے گئے ۔ بچہ بستر مرگ پر پڑا تھا۔ اس کے پاس بیٹھ گئے اور اس کو اپنے قرب سے تسکین دی اور پوچھا بچے ! کیا تم یہ پسند نہیں کرو گے کہ مسلمان ہو کر جان دو ۔ صرف یہی تبلیغ کی اور یہی سیدھا سادھا کلمہ جو دل کی گہرائی سے نکلا تھا بچے کے دل میں جا کر ڈوب گیا۔ اس نے سر ہلایا کہ ہاں میں یہی پسندوں کرتا ہوں۔ چنانچہ کلمہ پڑھا اور جان دے دی ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس سے آنحضرت ﷺ کو اتنی خوشی ہوئی کہ بار بار فرمانے لگے الحمد للہ الحمدللہ۔ خدا نے مجھے ایک روح کو بچانے کی توفیق عطا فرمادی ۔ ( بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصمى فمات هل يصلى عليه ) وہ جو ساری دنیا کی روحوں کو بچانے کیلئے آیا تھا جس نے ہم سب کی روحوں کو بچایا ہے۔ ہم اور ہمارے باپ دادے اور ہماری نسلیں ہمیشہ اس کی غلامی میں جھکی رہیں تب بھی اس کے احسانات کا بدلہ نہیں ادا کر سکتیں۔ وہ نور کامل جس نے بنی نوع انسان کو اندھیروں سے نکالا اور روشنی عطا کی ، وہ جو سب دنیا کا حسن بنا اور حسن بنے گا ، وہ جس کے در پر ایک نہ ایک دن ساری بنی نوع انسان لا ز ما حاضر