خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 128
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲۸ خطبہ جمعہ ۱۵ / جولائی ۱۹۷۷ء <mark><mark>ان</mark>س<mark>ان</mark></mark>وں کے لئے اطمین<mark>ان</mark> و سکون خوشی و خوشحالی کے سام<mark>ان</mark> پیدا کرنے کی بجائے یہی عقل بے اطمین<mark>ان</mark>ی ، بدحالی اور پریش<mark>ان</mark>یوں کے سام<mark>ان</mark> پیدا کر دیتی ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ ہمارا یہ زم<mark>ان</mark>ہ جو مہذب دنیا کا زم<mark>ان</mark>ہ کہلاتا ہے جب ہم <mark>اس</mark> پر نگاہ ڈالتے ہیں اور یورپ و امریکہ کو دیکھتے ہیں یا دوسرے ممالک جو بڑے مہذب کہلاتے ہیں <mark>ان</mark> کا مطالعہ کرتے ہیں تو اگر چہ سارے نہیں لیکن <mark>ان</mark> کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پایا جاتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ عقل محض <mark><mark>ان</mark>س<mark>ان</mark></mark> کے لئے کافی ہے۔<mark>ان</mark>ہیں خدا کی ، خدائی راہنمائی اور خدائی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔کچھ ہمارے ملک میں بھی یہ اثر <mark>ان</mark> کی نقل کرتے ہوئے آ گیا ہے جب ہم <mark>ان</mark> عظمند کہل<mark>ان</mark>ے والے ممالک کے حالات اور <mark>ان</mark> کی عقل کے فیصلوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو <mark>ان</mark> کی عقل کی ہزاروں فحش غلطیاں ہمارے سامنے آتی ہیں اور بڑے مضحکہ خیز تضاد عقل، عقل کے درمی<mark>ان</mark> پائے جاتے ہیں۔معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں <mark>ان</mark> کی عقل کے فیصلے جنہوں نے <mark><mark>ان</mark>س<mark>ان</mark></mark>وں کو دکھ پہنچا یاوہ ہمارے علم اور مشاہدہ میں آتے ہیں اور <mark>ان</mark> کی اتنی مثالیں ہیں کہ جب میں دورے پر پریس ک<mark>ان</mark>فرنس میں باتیں کرتا ہوں یا <mark>ان</mark> کے جو سکالرز ہیں اور محقق ہیں <mark>ان</mark> سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے تو <mark>ان</mark> کو میں <mark>اس</mark> طرف <mark>توجہ</mark> دلا تا ہوں کہ تمہاری عقل نا کام ہوگئی اور تمہاری عقل نے تمہیں وہ فائدہ نہیں پہنچایا جو تم سمجھتے تھے کہ تمہاری عقل فائدہ پہنچائے گی <mark>اس</mark> لئے اب وقت آگیا ہے کہ عقل سے کام لیتے ہوئے <mark>اس</mark> عَلامُ الْغُيُوبِ ہستی کی طرف <mark>توجہ</mark> کرو جس کی ہدایت کے بغیر <mark><mark>ان</mark>س<mark>ان</mark></mark> کی عقلیں ناکارہ ہو جاتی ہیں بلکہ دکھ پہنچ<mark>ان</mark>ے کا سبب بن جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے <mark>اس</mark> مضمون پر بھی بڑی بسط سے لکھا ہے کہ اگر خدا سے دوری ہو اور اللہ تعالیٰ کا الہام عقل کے ساتھ نہ ہو تو عقل میں یہ یہ خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔سب سے اہم خطا اور نہایت خطرناک خطا کہ جس سے بڑھ کر کوئی اور خطا سوچی نہیں ج<mark>اس</mark>کتی وہ یہ ہے کہ عقل مند کہل<mark>ان</mark>ے کے باوجود وہ خدا کو نہیں پہچ<mark>ان</mark>تے اور <mark>اس</mark> میں شک نہیں کہ <mark>اس</mark> سے بڑی غلطی اور خطا کوئی اور ہوہی نہیں سکتی کہ عقلمند <mark><mark>ان</mark>س<mark>ان</mark></mark> بھی ہو اور خدا تعالیٰ کا <mark>ان</mark>کار بھی کر دے۔چن<mark>ان</mark>چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام