خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 150 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 150

خطبات ناصر جلد <mark><mark>اول</mark></mark> خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ارادہ کرو گے اور جرات اور بہادری کے ساتھ اپنی <mark><mark>اس</mark></mark> پاک نیت کو عملی جامہ پہناؤ گے اور ساتھ ہی عاجزی اور تذلل کے ساتھ دعا کرتے رہو گے کہ <mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> تمہارے <mark><mark>اس</mark></mark> ہدیہ کو قبول کرے تو خدا <mark>تعالیٰ</mark> تمہاری مدد کو آئے گا اور اِنْ يَنْصُرُكُمُ اللهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ (ال عمر<mark>ان</mark> : ١٦١)۔جب خدا <mark>تعالیٰ</mark> تمہاری مدد کو آ جائے گا اور تمہارا ناصر بن جائے گا تو افل<mark><mark>اس</mark></mark> یا کوئی اور شیط<mark>ان</mark>ی حربہ تم پر غالب نہیں آ سکے گا اور تمہیں مغلوب نہیں کر سکے گا کیونکہ تم نیک ارادہ، نیک عمل اور عاجز<mark>ان</mark>ہ دعاؤں کے ساتھ اپنا مال خدا <mark>تعالیٰ</mark> کی راہ میں پیش کرتے ہو اور <mark><mark>اس</mark></mark> سے یہ امید رکھتے ہو کہ وہ <mark><mark>اس</mark></mark>ے قبول کرے گا <mark><mark>اس</mark></mark> لئے وہ <mark><mark>اس</mark></mark>ے رد نہیں کرے گا اور جس مال کو خدا <mark>تعالیٰ</mark> قبولیت کا شرف بخش دیتا ہے وہ مال ضائع نہیں ہوتا <mark><mark>اس</mark></mark> میں ہمیشہ بڑھوتی ہی ہوتی رہتی ہے۔دراصل یہ شعر قرآن کریم کی ایک آیت کے مفہوم کو بی<mark>ان</mark> کر <mark>رہا</mark> ہے۔<mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> فرماتا ہے :۔مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۖ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْقطُ وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ۔(البقرة : ۲۴۶) ص کیا کوئی ہے <mark>جو</mark> <mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کو اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر بطور قرض دے تا کہ وہ <mark><mark>اس</mark></mark> مال کو <mark><mark>اس</mark></mark> کے لئے بہت بڑھائے اور <mark>اللہ</mark> ہی ہے <mark>جو</mark> بندہ کے مال میں تنگی یا فراخی پیدا کرتا ہے اور آخر تمہیں <mark><mark>اس</mark></mark> کی طرف لوٹایا جائے گا۔<mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کے <mark>حضور</mark> تم <mark>جو</mark> مال بھی پیش کرتے ہو وہ <mark><mark><mark>اس</mark></mark>ی</mark> کا ہے <mark><mark><mark>اس</mark></mark>ی</mark> سے تم نے لیا اور <mark><mark><mark>اس</mark></mark>ی</mark> کو پیش کر <mark>دیا</mark>۔اپنے پ<mark><mark>اس</mark></mark> سے تو تم نے کچھ نہیں <mark>دیا</mark>۔نہ تمہارا مال اپنا، نہ تمہاری ج<mark>ان</mark> اپنی ، نہ عزت اپنی، نہ وقت اپنا، اور نہ عمر اپنی ، غرض تمہارا اپنا کچھ بھی نہیں۔محض خدا <mark>تعالیٰ</mark> کی دین تھی۔<mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے ہی یہ سب کچھ تمہیں <mark>دیا</mark> لیکن <mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے تم پر یہ فضل کیا جیسا کہ وہ <mark><mark>اس</mark></mark> آیت میں فرماتا ہے کہ اگر تم میری دین اور میری عطاء میں سے کچھ مجھے دو گے تو میں تمہیں <mark><mark>اس</mark></mark> کا ثواب دوں گا دراصل غور کے ساتھ دیکھا جائے تو ہماری سب عبادتیں <mark>اللہ</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کی سابقہ عطاؤں پر بطور شکر کے ہوتی ہیں۔یہ محض <mark><mark>اس</mark></mark> کا فضل ہے کہ وہ ادائے شکر پر مزید احس<mark>ان</mark> کرتا ہے <mark><mark>اس</mark></mark> طرح شکر اور عطائے الہی کا