خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 612

612 $2004 خطبات م<mark>سر</mark>ور کرتا ہے۔<mark>حکم</mark> ایک نہیں ہو تا بلکہ <mark>حکم</mark> تو بہت ہیں۔جس طرح بہشت کے کئی دروازے ہیں کہ کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے اور کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے، <mark>اس</mark>ی طرح دوزخ کے کئی دروازے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ تم ایک دروازہ تو دوزخ کا بند کرو اور دو<mark>سر</mark>ا کھلا رکھو۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ٤١١ ، البدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء) <mark>لوگ</mark> <mark>منہ</mark> سے تو <mark>کہہ</mark> <mark>دیتے</mark> ہیں کہ ہم <mark>اطاعت</mark> <mark>گزار</mark> ہیں <mark>سلسلے</mark> کا ہر <mark>حکم</mark> <mark>سر</mark> <mark>آنکھوں</mark> پر۔لیکن جب <mark>موقع</mark> <mark>آئے</mark> ، جب <mark>اپنی</mark> <mark>ذات</mark> کے <mark>حقوق</mark> <mark>چھوڑنے</mark> <mark>پڑیں</mark>، <mark>تب</mark> <mark>پتہ</mark> <mark>لگتا</mark> ہے کہ <mark>اطاعت</mark> ہے یا نہیں ہے۔<mark>اس</mark> <mark>لئے</mark> آپ نے <mark>فرمایا</mark> کہ <mark>اطاعت</mark> <mark>اتنا</mark> <mark>آسان</mark> <mark>کام</mark> نہیں ہے۔ہر <mark>حکم</mark> کو <mark>بجالانا</mark> اور ہر <mark>معاملے</mark> میں <mark>اطاعت</mark> اصل مقصد ہے اور <mark>فرمایا</mark> کہ جو مکمل طور پر <mark>حکم</mark> کی <mark>اطاعت</mark> نہیں کرتا وہ <mark>سلسلے</mark> کو بدنام کرتا ہے۔اللہ کے <mark>حقوق</mark> ادا نہ کر کے بھی بدنامی کا باعث بنتے ہو اور بندوں کے <mark>حقوق</mark> ادا نہ کر کے بھی بدنامی کا باعث بنتے ہو اور جس طرح جنت میں جانے کے کئی دروازے ہیں نیکیاں کر کے جنت میں داخل ہوتے ہو <mark>اس</mark>ی طرح دوزخ کے بھی کئی دروازے ہیں۔یہ نہ ہو کہ پوری <mark>اطاعت</mark> نہ کر کے کوئی دروازہ کھلا رکھو اور دوزخ میں داخل ہو جاؤ۔<mark>اس</mark> <mark>لئے</mark> <mark>کام</mark>ل وفا کے ساتھ <mark>اطاعت</mark> <mark>گزار</mark> بندے بنے رہو اور <mark>اس</mark> کے <mark>لئے</mark> اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگنی چاہئے <mark>اس</mark> کا فضل ہو تو انسان ان باتوں سے بچ سکتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ” <mark>اطاعت</mark> پوری ہو تو ہدایت پوری ہوتی ہے۔ہماری جماعت کے <mark>لوگ</mark>وں کو خوب سن لینا چاہئے اور خدا تعالیٰ سے توفیق طلب کرنی چاہئے کہ ہم سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٢٨٤ ، البدر ۸ مئی ۱۹۰۳ء) تو <mark>فرمایا</mark> کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں <mark>اس</mark> کے بارے میں ہم <mark>کہہ</mark> سکتے ہیں کہ وہ پوری طرح ایمان لا یا اور ہدایت پائی جس میں <mark>اطاعت</mark> بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہو، ایک ذرہ بھی وہ <mark>اطاعت</mark> سے باہر نہ ہو۔اور <mark>فرمایا</mark> کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ملتا ہے <mark>اس</mark> <mark>لئے</mark> <mark>اس</mark> سے توفیق طلب کرتے رہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہمیں ہر ایسی حرکت سے بچائے جس سے ہماری <mark>اطاعت</mark> پر کوئی حرف آتا ہو۔پس