خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 314
خطبات مسرور جلد 19 314 مه فرمودہ مورخہ 28 مئی 2021ء غیروں نے بھی خوشی کے بڑے شادیانے بجائے۔آپ کی وفات پر ایسی ہرزہ سرائیاں کی گئیں کہ انسانیت کو ان کے بارے میں سن کر شرم آتی ہے۔وہ وہ بیہودہ گوئیاں کی گئیں کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول کے نام لینے والے اس حد تک بھی گر سکتے ہیں۔یہ تمام بیہودہ گوئی تو مجھے بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ان کی بعض دوسری کو ششوں کا ذکر کر دیتا ہوں کہ کس طرح انہوں نے آپ کے وصال کے بعد کوشش کی کہ جماعت کو ختم کیا جائے۔جماعت کے شیرازے کے بکھرنے کے بارے میں اور احمدیوں کو احمدیت سے تائب ہونے کے بارے میں انہوں نے جھوٹی خبریں کس طرح پھیلائیں۔مثلاً پیر جماعت علی شاہ کے مریدوں نے کہا کہ مرزائی تائب ہو کر بیعت کر رہے ہیں۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه 204) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد احمدیت سے توبہ کر کے اب ان کے اندر شامل ہو رہے ہیں۔خواجہ حسن نظامی صاحب احمدیوں کو مشورہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اب مرزا صاحب کے دعوی مسیحیت اور مہدویت سے احمد ی صاف انکار کر دیں اور نہ اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب جیسے سمجھدار اور منتظم شخص کی عدم موجودگی کے سبب احمدی جماعت مخالفین کی شورش کو برداشت نہ کر سکے گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه 206) بڑے سیاسی انداز میں اپنی طرف سے بڑی نرم زبان میں یہ مشورہ دے رہے ہیں۔یہ صاحب سنجیدہ طبع تھے بظاہر۔انہوں نے بڑے سادہ بن کر اور ہمدرد بن کر احمدیوں کو مشورہ دیا ہے کہ مرزا صاحب تو اب فوت ہو گئے، تمہیں کوئی نہیں سنبھال سکتا اس لیے چھوڑ و احمدیت کو اور آؤ اور ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ لیکن ان کو نہیں پتہ تھا ان کی آنکھ ان وعدوں کی شان کو نہیں دیکھ سکتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیسے تھے کہ " میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔" ( الحکم جلد 11 نمبر 46 مورخہ 24 دسمبر 1907ء صفحہ 4) اللہ تعالیٰ نے الہاما آپ کو فرمایا۔آپ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما کر تسلی دی تھی کہ آپ کے بعد آپ کی خلافت کا سلسلہ شروع ہو گا اور جو وعدے اور پیشگوئیاں ہیں ضرور پوری ہوں گی۔آپ نے واضح فرمایا کہ یہ نبیوں کی جماعت دوسری قدرت کو بھی دیکھتی ہے۔یہاں نبی کی یہ مثال دے کر ان لوگوں کو بھی یہ جواب دے دیا جو بعض کمزور طبع احمدی لوگ بعض دفعہ یہ کہتے ہوئے جھجکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے۔یہاں اس کا بھی جواب آگیا۔آپ نے خود یہ فرما دیا کہ میری جماعت نبی کی جماعت ہے اور میں نبی ہوں اور آپ نے فرمایا کہ نبیوں کی جماعت دوسری قدرت کو بھی دیکھتی ہے اور یہی تم لوگ بھی دیکھو گے جو ایمان پر قائم رہو گے اور عمل صالح کرو گے۔چنانچہ آپ قدرت ثانیہ کے جاری رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں: "غرض " اللہ تعالیٰ " دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔(1) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔(2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پید اہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ