خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد 15 426 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 ستمبر 2017 ہے۔یعنی اچھی نصیحت۔پھر فرمایا بحث میں ایسی دلیل استعمال کرو جو بہترین ہو۔آجکل کے نام نہاد علماء نے اور دہشتگرد گروہوں اور تنظیموں نے اپنے جنونی پن اور بغیر حکمت، عقل اور بے دلیل باتوں سے اسلام کو اس قدر بد نام کر دیا ہے کہ غیر مسلم دنیا سمجھتی ہے کہ اسلام حکمت سے عاری اور دلائل سے عاری مذہب ہے اور بے عقلوں اور بیوقوفوں کا مذہب ہے۔نعوذ باللہ۔اور صرف شدت پسندی ہی اس کی تعلیم ہے۔ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق تبلیغ کرنی اور تبلیغی رابطے کرنے ہر احمدی کی ایک بہت اہم ذمہ داری ہے۔پس اس اہمیت کو سب سے پہلے تو ہر سطح کے عہدیداروں کو سمجھنا چاہئے۔گزشتہ ایک دو سال میں ان شدت پسندوں اور بعض علماء کے عمل نے اسلام کو اتنا بد نام کر دیا ہے اور اس پر میڈیا نے بھی ان باتوں کو اتنا اچھالا ہے کہ گزشتہ دنوں یہاں ایک سروے ہوا جس میں اسلام کے شدت پسند اور ظالم مذہب ہونے اور مسلمانوں کے ناپسندیدہ ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اکثریت نے یہی جواب دیا کہ اسلام بڑا شدت پسند مذہب ہے اور مسلمان ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک میں مسلمان رہیں اور ملک کے لئے یہ لوگ نقصان دہ ہیں۔جبکہ چند سال پہلے یہ سروے ہوا تھا تو اس کے نتائج بالکل الٹ تھے اور اکثریت اُس وقت مسلمانوں کو اچھا سمجھتی تھی۔پس ایسے حالات میں ہمیں اندازہ ہو جانا چاہئے کہ کس قدر محنت کے ساتھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تبلیغ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو بات بیان فرمائی وہ حکمت کے ساتھ تبلیغ ہے۔یہ حکمت کیا چیز ہے ؟ حکمت کے بڑے وسیع معنی ہیں اور کامیاب تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ ان معانی کا ہمیں علم ہو تا کہ اپنی تبلیغ میں ان باتوں کو ہم مد نظر رکھیں۔حکمت کے ایک معنی علم کے ہیں۔تبلیغ کرنے کے لئے علم بھی ہونا چاہئے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ان کو تو بہانہ مل گیا کہ ہمارے پاس علم نہیں ہے اس لئے ہم تبلیغ نہیں کر سکتے۔اس زمانے میں یہ بہانہ بھی کوئی بہانہ نہیں ہے۔ہمیں علمی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے دلائل سے لیس کر دیا ہے اور جماعتی لٹریچر میں اس علم کو مہیا کر دیا گیا ہے کہ معمولی سی کوشش بھی کافی حد تک علمی مضبوطی عطا کر دیتی ہے۔پھر سوال و جواب کی صورت میں آڈیو ویڈیو مواد موجود ہے۔پھر ویب سائٹس ہیں۔بہت سے لوگ جب ان کو پیغام پہنچایا جائے تو ان میں سے بعض غیر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے پاس اس وقت لمبی بحث کا وقت نہیں ہے۔انہیں پمفلٹ بھی دیئے جاسکتے ہیں اور ویب سائٹس کے پتے بھی دے دیں تو جو دلچسپی رکھنے والے ہیں وہ بہت سارے ایسے ہیں جو دلچسپی رکھتے ہیں جس کا ان کے پاس فوری وقت نہیں ہو تا لیکن بعد میں معلومات لے لیتے ہیں۔بہت سے لوگوں نے مجھے خود بتایا کہ انہوں نے اس طرح معلومات لیں۔پس ایک تو پہلے اپنا علم بڑھانے کی ضرورت ہے تا کہ جن سے علمی گفتگو ہونی ہے ان سے اس طریق سے بات کی جائے جس کے معیار پر وہ پورا اترتے ہیں۔دوسرے یہ پتا ہونا