خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 323

خطبات مسرور جلد 15 323 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جولائی 2017 کے باعث ہم اہل خاندان حلب شہر کے مضافاتی علاقے میں منتقل ہوئے تو مجھے اپنے بھائی کے ساتھ دوبارہ دینی امور کے بارے میں بحث کرنے کا موقع مل گیا۔لیکن میں جب بھی اس سے کسی امر کے بارے میں سوال کرتا تو اس کا جواب مجھے حیران کر دیتا اور میں دل میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ دراصل اس مسئلہ کا یہی معقول جواب ہے جو احمدی بھائی دیتا ہے۔لیکن شدت مخالفت کی وجہ سے میں حق بات نہ کہہ پاتا تھا۔کہتے ہیں ہماری گفتگو چلتے چلتے وفات مسیح کے موضوع تک آ پہنچی۔یہ پہلا موقع تھا کہ اس گفتگو کے بعد میں نے اپنے بھائی سے بعض جماعتی کتب کا مطالبہ کر دیا۔کہتے ہیں اس نے کہا کہ تمام کتابیں اسی گھر میں ہیں جسے ہم بمباری کے خوف سے چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں۔جنگ کی وجہ سے گھر چھوڑ آئے تھے۔کہتے ہیں کہ میں اُسی وقت بمباری، دہشت گردی اور کشت و خون سے بھر پور علاقے میں گیا۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔اگر کتابیں وہاں ہیں تو میں یہ خطرہ مول لے لیتا ہوں۔میں گیا اور وہ کتابیں لے آیا۔واپس آکر میں نے ان کتب کا مطالعہ شروع کیا۔یہاں تک کہ دل سے احمدی ہو گیا اور اپنے بھائی کو بھی اس کے بارے میں بتادیا لیکن خانہ جنگی کی صور تحال میں میری بیعت ارسال نہ کی جاسکی۔کہتے ہیں میں پہلے تو سیرین گورنمنٹ کے خلاف گروپ کے ساتھ مل کر حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف تھا لیکن قبول احمدیت کے فیصلہ کے بعد جب میں نے خلیفہ المسیح کے اس بارے میں خطبات سنے تو فوراً حکومت کے خلاف سرگرمیوں کو ترک کر دیا۔کہتے ہیں میرے والد صاحب میری بیعت پر سخت ناراض ہوئے اور ایک دن شدید غصہ کی حالت میں یہ بھی کہہ دیا کہ جاؤ دفع ہو جاؤ۔خدا مجھے تمہارا منہ نہ دکھائے اور کبھی تمہیں لوٹا کر میرے پاس نہ لائے۔کہتے ہیں والد صاحب کے ان الفاظ کی میرے ایمان کے بالمقابل کوئی وقعت نہ تھی اور بفضلہ تعالیٰ میں اس کے جذباتی اثر سے محفوظ رہا اور پھر ہجرت کر کے ترکی آگئے اور کہتے ہیں پہلا کام یہاں میں نے یہ کیا کہ بیعت فارم پر کر کے آپ کو بھیج دیا۔اللہ تعالیٰ کس طریق سے مخالفین کے حیلوں کو توڑ کر لوگوں کے دلوں کو کھولنے کا سامان کرتا ہے۔اس کا ایک واقعہ مراکش کے ایک دوست کا ہے۔عبد الکریم صاحب کہتے ہیں کہ میں تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جماعت احمد یہ الہبی جماعت ہے لیکن ایک الزام کا جواب تلاش کرتے ہوئے مجھے جماعت کی عربی ویب سائٹ میں منہاج الطالبین نامی ایک کتاب مل گئی۔اس کتاب کی فہرست پڑھتے ہی میرے دل میں اس کے مطالعہ کا شوق پیدا ہو گیا۔اس کتاب کی ابتداء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعض لوگوں کے اعتراضات کا جواب دیا ہے جنہوں نے آپ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ حضرت مصلح موعود خالی بیٹھے رہتے ہیں، فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔معترضین نے یہ کہا۔اس کے جواب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا روز مرہ کا جو شیڈول تھا وہ بیان فرمایا کہ میں صبح سے اٹھ کے رات تک کیا کرتا ہوں۔یہ لکھنے والے مراکشی کہتے ہیں کہ میں ایک طرف اسے