خطبات محمود (جلد 9) — Page 271
271 میں ہم خدا کے شریک نہیں۔ کیونکہ جو کچھ ہم کسی کو دیتے ہیں۔ یہ تو خدا ہی نے ہمیں دیا اور ہم اسی میں سے دیتے ہیں اس لئے ہماری اور اس کی اس رزق دینے میں کوئی شرکت نہیں رہتی۔ دیکھو اگر ہم کسی کو کچھ دیتے ہیں۔ تو وہ ہمارا شریک نہیں بن جاتا۔ کیونکہ ہم عطیہ کے طور پر دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اسے اپنا شریک بنا لیتے ہیں۔ دنیا میں ایسے لوگ تو بہت سے ملیں گے جو دوسرے کو کوئی چیز دے دیتے ہیں لیکن ایسا کوئی نہیں ملے گا جو بطور شریک کسی کو اپنے ساتھ شامل کرے ۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی کو کوئی چیز سالم کی سالم دے دے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی چیز میں اپنا شریک بنالے۔ مثلاً ایک شخص اپنے نوکر کو ایک مکان پورے کا پورا تو دے دے گا۔ لیکن یہ ہرگز نہیں کرے گا۔ کہ اسے کے فلاں مکان میں تو میرا شریک بن جا۔ جس طرح اس پر میرے حقوق ہیں اسی طرح تیرے بھی ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ اس بات کو قرآن کریم نے بیان بھی کیا ہے۔ چنانچہ سورہ محل میں آتا ہے۔ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نوکروں کو اس قدر مال دے دیتے ہیں کہ وہ فیہ سواء ان کے برابر ہو جاتے ہیں۔ مگر ایسا کوئی نہیں ملے گا جو نوکر کو اپنے مال میں شریک کرے۔ پس خدا بھی بطور عطیہ کے ہمیں دیتا ہے۔ نہ کہ اپنا شریک بنا کر۔ پس یہ تو ایک شخص کر سکتا ہے کہ اپنا کوئی مکان یا اپنی زمین کا کچھ حصہ کسی کے حوالے کر دے لیکن یہ نہیں کر سکتا کہ اپنے حقوق میں شریک بنائے۔ ایک کروڑ پتی ایک روپے میں بھی کسی کو شریک نہیں بنائے گا۔ وہ دس ہزار روپیہ دے دینا آسان سمجھے گا۔ مگر ایک روپیہ میں کسی کو شریک کرنا اس کے لئے مشکل ہوگا۔ پس اس آیت کا یہ منشاء نہیں کہ کسی غیر کو اپنے مال میں شریک بنا لیا جاتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بیان کرنا ہے کہ دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو کسی کو اپنے مال میں مساوی شریک بنالے۔ پس جب کوئی انسان ایسا نہیں کرتا۔ تو خدا کی ذات کے متعلق یہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس نے بعض صفات کو نکلی اور انعکاسی طور پر بندوں کو دے کر اپنا شریک بنا لیا ہے۔ جس طرح ایک انسان کسی دوسرے انسان کو کچھ دیتا ہے تو وہ گویا اس کا مظہر ہو جاتا ہے کیونکہ اس دی ہوئی چیز کے ذریعے جو کچھ بھی اس سے ظاہر ہو گا۔ وہ در حقیقت اس شخص کا ہوگا۔ جس نے اسے کچھ دیا اور اس قابل بنایا۔ اسی طرح بندوں میں اگر بعض وہی باتیں پائی جاتی ہیں جو خدا تعالی میں ہیں۔ تو اس کا یہ تو مطلب مطلب نہیں کہ بندے بھی خدا ہو۔ ا ہو گئے بلکہ بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ خدا کی صفات کے مظہر ہو گئے اور اگر غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ بعض صفات میں اللہ تعالیٰ کا مظہر بنے۔