خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 95

خیلیات محمود جلد ۸ 95 تکلیف کے برداشت کی طاقت بڑھتی ہے۔ اسی طرح دوسرے امور میں ہے کہ جو کام میں رکاوٹ ہوگی اس میں کمزوری آئے گی۔ ایک زمیندار جو ہل چلاتا ہے اگر ہل چلانا چھوڑ دے تو کچھ عرصہ کے بعد اس میں طاقت کی کمی آجائے گی۔ یا اگر ایک طبیب جس کی پریکٹس جاری ہے اس کے مریضوں کو جلدی صحت ہوگی۔ بہ نسبت اس کے جس نے اس فن کو چھوڑ دیا ہو۔ کیونکہ موخر الذکر کو نسخہ تجویز کرنے میں دیر اور مشکل ہوگی۔ پس کامیابی اس کے لئے ہے جو مستقل رہے۔ پس روزے سبق ہیں کہ انسان کو استقلال سیکھنا چاہئیے۔ کئی لوگ کچھ سیکھتے ہوئے ناغے کرتے ہیں۔ ناغوں سے مشق کم ہو جاتی ہے۔ وہ طلبا جو نافے کرتے ہیں۔ گر جاتے ہیں اور باقاعدہ سکول میں آنے والے بڑھ جاتے ہیں۔ یہی حال عبادات کا ہے۔ جو شخص نماز میں ناغہ کرتا ہے وہ اپنا پچھلا کیا ہوا ضائع کر دیتا ہے صدقہ و خیرات میں ناغہ کرنے والا اپنے کام کو ضائع کرتا ہے۔ وقفہ کے سنے ہیں پہلے کام کو ضائع کر دینا۔ اگر زمیندار اپنے کام میں ناغہ کر دے اور ایک سال ہل نہ چلائے۔ غلہ نہ ہوئے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے اپنے پہلے غلہ کو کھالیا اور آئندہ کو بھوکا رہنے کا سامان کر لیا۔ اس لئے مومن کو اپنے کام میں ناغہ نہیں ہونے دینا چاہئیے کیونکہ بعض ناغے کرنا کام کو خراب کرنا ہوتا ہے۔ رمضان کا تجربہ بتاتا ہے کہ خوراک میں صرف وقت کی تبدیلی سے کتنا فرق پڑ جاتا ہے۔ اگر روٹی کا وقت بدلنے سے فرق پڑتا ہے تو روٹی کے ترک سے کتنا نقصان ہو ہے یہ میں ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو استقلال دے۔ اور ہم اس کے ماتحت کام کریں۔ ا مند احمد بن حنبل جزو ۴ ص ۴۱۴ الفضل ۳۱ ر مئی ۱۹۲۳ء)