خطبات محمود (جلد 8) — Page 79
79 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے ہوئے نہ تھے۔ آپ نے باقاعدہ تعلیم بھی مدارس میں نہ پائی تھی۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ آپ کے بیان سے علوم کے عقدے حل ہونے لگے۔ یہی کہ آپ پر خدا کی وحی نے علوم کھول دئے۔ یہ وحی کی برکت ہے۔ اس میں انسانی عقل کا دخل نہیں۔ فلاسفہ کی کتابوں میں یہ بات نہیں ہو سکتی جو حضرت اقدس کی کتابوں میں ہے کہ ان سے تسلی ہوتی ہے۔ قرآن کریم سے تسلی ہوتی ہے اور یہی حالت حضرت صاحب کی کتب کی ہے کہ یہ بھی وحی کی روشنی میں لکھی گئی ہیں۔ فلاسفہ اس کوچے سے ناواقف اور اس بات میں بچے ہیں۔ پس یہ اطمینان اور یہ نصرت اللہ تعالیٰ کی تائید ہے۔ اللہ تعالی دل کا واقف ہے۔ وہ جس پر جلوہ کرتا ہے اس کو منور کر دیتا ہے۔ غرض یہ اسلام کی برکت ہے کہ سلسلہ وحی جاری ہے۔ اس کا تعلق رمضان سے ہے۔ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ اس ماہ مبارک کی قدر کرے اور برکات کو جمع کرے۔ ہمیں اس خدا کی برکت کے نشان کی قدر کرنی چاہئیے۔ خدا ہمیں زیادہ برکتیں دے گا۔ اس لئے ہمیں چاہئیے کہ اپنے لئے اور ترقی روحانیت کے لئے اور خصوصاً اس جنگ عظیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جس میں آجکل ہماری جماعت شامل ہے دعا کریں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے کلام کی اشاعت کی توفیق ملے۔ اس پر عمل کرنے کی توفیق ملے۔ اگر یہ بات حاصل ہو جائے تو باقی سب دنیا کی چیزیں بیچ ہیں۔ یہ مل جائے تو اور بھی سب کچھ مل جائے گا۔ ا بخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبي يكون في رمضان الفضل ۳۰ ر اپریل ۱۹۲۳ء)