خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 7

روزانہ بن جاتی ہے۔ گویا ۷ دفعہ سے لیکر ۵۰ دفعہ تک برابر ایسی حد بندی ہے کہ جس کی ایک حد تو فرض ہے۔ دوسری حد قریب قریب فرض کے ہے۔ یعنی سنن اور پھر نوافل اور اگر اور مختلف نوافل شامل کر لئے جائیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پسند فرماتے تھے گو ان پر زیادہ زور نہ دیتے تھے تو ۱۰ تک تعداد پہنچ جاتی ہے اور کوئی نماز بلکہ کوئی رکعت ایسی نہیں رکھی گئی جن میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری نہ ہو۔ حتی کہ جنازہ کی نماز میں بھی سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے حالانکہ بظاہر یہ نماز مرنے والے کے لئے دعا ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے سورہ فاتحہ کے پڑھنے پر اس قدر جو زور دیا گیا ہے۔ میرے نزدیک اتنا زور دینے کی وجہ سورہ فاتحہ کے مضمون سے ہی ظاہر ہے۔ سورۂ فاتحہ چونکہ تمام قرآن کے مضامین کا خلاصہ ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی مضمون نہیں جو اس میں نہ ہو۔ اور چونکہ قرآن کریم تمام روحانی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے اور اس میں وہ تمام مضمون ہیں جن کے بغیر خدا نہیں مل سکتا۔ جن کے بغیر روحانیت مکمل نہیں ہو سکتی۔ جن کے بغیر اخلاق اعلیٰ نہیں ہو سکتے۔ اور جن کے بغیر تدن قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب مضامین سورہ فاتحہ میں بیان ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے ثابت کئے ہیں۔ اور ہم بھی خدا کے فضل سے اصولی طور پر سب مضامین سورہ فاتحہ سے ثابت کر سکتے ہیں۔ کے فضل اگر کوئی معترض کھڑا ہو اور کہے خدا کے قرب کے گر۔ روحانیت میں ترقی کرنے کے طریق۔ اخلاقی مضامین یا تمدن کے قیام کے گر بتاؤ۔ تو ہم اللہ تعالیٰ کے اسے نہ صرف یہ بلکہ ہر قسم کے روحانی مسائل اصولی طور پر اس سورۃ سے نکال سکتے ہیں۔ لیکن ایک مضامین عبارت کے الگ الگ ٹکڑے اور الفاظ سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے عبارت کی ترتیب سے۔ پس اس سورۃ کے ٹکڑوں سے سب مضامین نکلتے ہیں۔ مگر ساری سورہ فاتحہ ایک خاص مضمون کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اور جو شخص بھی سورہ فاتحہ پر غور کرے گا فورا سمجھ جائے گا کہ اسی مضمون کی وجہ سے اس کے پڑھنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے۔ وہ مضمون کیا ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو علیحدہ کرکے کہ یہ سورہ فاتحہ کی کنجی ہے اور کنجی اپنا مستقل وجود رکھتی ہے اس کو چھوڑ کر اس طرح شروع ہوتی ہے۔ الحمد لله رب العالمين۔۔۔۔۔۔ الخ ساری خوبیاں خدا تعالی میں ہی ہیں۔ اس سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا کے سوا اور کسی ذات میں سب خوبیاں نہیں۔ صرف اللہ ہی کی ذات ایسی ہے جس میں سب خوبیاں ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ میں یہ یہ خوبیاں ہیں۔ تم غور کر کے دیکھ لو۔ تم میں یہ ہیں یا نہیں۔ انسان سمجھ لے گا کہ نہیں اور انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے۔ جب اس میں وہ خوبیاں