خطبات محمود (جلد 8) — Page 527
527 82 سفر یورپ سے واپسی پر حضرت خلیفۃ المسیح کا پہلا خطبہ جمعہ (فرموده ۲۸ نومبر ۱۹۲۴ء) مشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا میں آج بوجہ حلق کی خرابی اور بوجہ اس کے کئی دنوں سے متواتر دن کے بہت سے حصوں میں تقریریں کرتا رہا ہوں۔ کوئی لمبی بات نہیں کہنا چاہتا۔ لیکن چونکہ خطبہ جمعہ اسلامی طریق کے مطابق اعلانات کا موقعہ ہے۔ اس لئے میں اس خطبہ میں جو واپسی سفر یورپ کے بعد پہلا خطبہ ہے۔ جو مجھے اس ملک میں پڑھنے کا موقعہ ملا ہے۔ اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں اس خدمت اس اخلاص اس قربانی اور اس ایثار کا شکریہ ادا کروں۔ جس اخلاص جس محنت جس جانفشانی جس قربانی اور جس ایثار کے ساتھ میرے بعد ان لوگوں نے جن کو ہندوستان کی جماعت احمدیہ کا انتظام سپرد کیا گیا ہے۔ انتظام کو چلایا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں۔ من لم يشكر الناس لم يشكر الله ! جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔ وہ خدا کا بھی نہیں کرتا۔ مجھے خوب یاد ہے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت والدہ مکرمہ تھیں اور میں تھا۔ کوئی بات شروع ہوئی۔ آپ نے فرمایا۔ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ) کا وجود خدا تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اگر مولوی صاحب اپنی جگہ پر ہوتے۔ تو لوگوں کے لئے مرجع کے طور پر ہوتے۔ کیونکہ بڑے بھاری طبیب اور مخلوق کے بڑے خیر خواہ ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالٰی نے انہیں یہ عزت اور یہ رتبہ دیا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آگئے اور سلسلہ کا کام اور غریبوں کا علاج کرنے لگے۔ اس کا ثواب ہم کو بھی ملے گا کیونکہ وہ ہماری وجہ سے یہاں آئے ہیں۔ اگر ہم ان کا شکریہ نہ کریں تو یہ خدا تعالیٰ کی ناشکری ہو گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دلوں پر قبضہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اپنی کسی خوبی اور اپنی عقل سے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کر لیا۔ خوبصورتی، علم، لیاقت قابلیت