خطبات محمود (جلد 8) — Page 37
37 بیان نہ کیا جائے۔ اس وقت تک مدد نہیں مل سکتی اور جب تک کہ کسی کو بتایا نہ جائے کہ تمہارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔ وہ آگ بجھانے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے قبل اس کے کہ میں سکیم کا اعلان کروں۔ جماعت کو آگاہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے نفوس اور جان و مال کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ کام بہت سخت ہے۔ ساڑھے چار لاکھ نفوس کی ایک قوم ہے جو مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ وہ تیار ہیں کہ اسلام چھوڑ کر ہندو ہو جائیں۔ ظاہر ہے کہ ایک دو کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے لیکن یہ اتنی بڑی قوم ہے۔ پھر ایک دو کو سمجھانے کے لئے بڑے وقت کی ضرورت ہے اور یہ کام برسوں میں کرنے کا نہیں بلکہ دو چار مہینہ کا ہے۔ ان کے بعض گاؤں آریہ ہو چکے ہیں۔ ان کے بڑے لوگ شدھ ہو چکے ہیں۔ ہمیں ایسے قلیل عرصہ میں ساری قوم کو یا معتد بہ کو روکنا ہے۔ پس یہ کام بڑی کوشش اور قربانی چاہتا ہے گویا جیسا کہ کہتے ہیں کہ لہو پانی ایک کرنا ہے اور جب تک اپنی خواہشات اپنے کاروبار اور آرام جان و مال کی قربانی نہ کی جائے گی۔ اس وقت تک یہ کام نہیں ہو سکے گا۔ اس کام کے لئے وہ لوگ تیار ہوں جو ہر ایک قربانی کے لئے تیار ہوں اور جن کا یہ عزم اور ارادہ ہو کہ خواہ کچھ بھی ہو۔ وہ انشاء اللہ اس کام کو کر کے چھوڑیں گے اور ان کی ایسی کار حالت ہو۔ جیسا کہ قرآن میں آتا ہے۔ قاتلوا وقتلوا مارتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ یہی دو صورتیں سامنے ہوں کہ یا تو یہ کام کروں گا اور ان کو اپنا ہم خیال بنالوں گا یا اس کوشش میں فنا ہو جاؤں گا۔ اس وقت کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بڑی جماعت ہے اور پھر یہی ساڑھے چار لاکھ نہیں بلکہ ایک کروڑ کی اور جماعت ہے۔ یہاں ایک دو آدمیوں سے کام نہیں ہو سکتا۔ روپیہ ہمارے پاس نہیں اور نہ تھوڑے آدمیوں کا کام ہے۔ بیسیوں آدمیوں کے کرنے کا کام ہے اور بڑے اخراجات کو چاہتا ہے۔ سو اس حالت کو دیکھ کر میں نے تجویز کیا ہے اور میرا اس وقت یہی اندازہ ہے کہ ہمیں اس وقت ہو کہ اس ڈیڑھ ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقہ میں کام کریں اور کام کرنے کا یہ طریق ہو گا سو کو تھیں تھیں کی جماعت پر تقسیم کر دیا جائے اور اس کے چار حصہ میں ہیں کے بنائے جائیں اور تیں آدمیوں کو ریز رو رکھا جائے کہ ممکن ہے کوئی حادثہ ہو۔ کوئی آدمی بیمار ہو جائے یا کوئی اور سانحہ ہو تو ہم ان میں سے بھیج سکیں۔ اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو یہ اقرار کرکے فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنی ہوگی جو میں اب بیان کروں گا۔ پہلے بعض لوگوں کی درخواستیں آتی ہیں۔ میں نے ان کو جواب نہیں دیا۔ وہ اب سمجھ لیں گویا ان کی درخواستیں واپس کر دی گئی ہیں۔ ان شرائط کے سننے کے بعد جو درخواستیں آئیں گی وہ منظور کی جائیں گی۔ اول یہ کہ ہم ان کو ایک پیسہ